Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 23 · Chapter 2149

فضائل و مناقب اور معائب و نقائص

قریشی سرداروں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منصوبہ، لیکن ناکامی

1 hadith in this chapter

3202

Silsila Sahiha #3202

Sahih

-" شاهت الوجوه [شاهت الوجوه]".-" شاهت الوجوه [شاهت الوجوه]".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قریشیوں کے اشراف لوگ حطیم میں جمع ہوئے، انہوں نے لات، عزی، نائلہ اور اساف کے نام پر باہم معاہدہ کیا کہ اگر ہم نے محمد (‏‏‏‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا، تو سب کے سب یکبارگی اس پر ٹوٹ پڑیں گے اور اسے قتل کئے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ان قریشی سرداروں نے باہم معاہدہ کیا کہ وہ جہاں بھی آپ کو دیکھیں گے، یکبارگی حملہ کر کے آپ کو قتل کر ڈالیں گے، ان میں سے ہر آدمی آپ کے خون میں سے اپنے حصے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بیٹی! وضو کے لیے پانی لاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ان کے پاس بیت اللہ میں چلے گئے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے: یہ وہ ہے (‏‏‏‏محمد صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پھر انہوں نے اپنی آنکھوں کو جھکا لیا، سروں کو پست کر لیا، اپنی اپنی جگہ پر ٹک کر کھڑے رہے اور ان میں سے کسی نے نہ آپ کو دیکھا اور نہ آپ کی طرف لپکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے، ان کے پاس کھڑے ہوئے، کنکریوں کی مٹھی بھری اور فرمایا: ”چہرے بھدے ہو گئے۔“ پھر وہ مٹھی ان پر پھینک دی، جس جس آدمی کو کنکری لگی، وہ بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل ہو گیا۔