Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 21 · Chapter 1779

آداب اور اجازت طلب کرنا

غیرمسلموں کے سلام یا بددعاؤں کا جواب کیسے دیا جائے؟

3 hadiths in this chapter

2664

Silsila Sahiha #2664

Sahih

-" إذا مررتم باليهود فلا تسلموا عليهم وإذا سلموا عليكم فقولوا: وعليكم".-" إذا مررتم باليهود فلا تسلموا عليهم وإذا سلموا عليكم فقولوا: وعليكم".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہودیوں کے پاس سے گزرو تو انہیں سلام نہ کہو اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو جواب میں صرف «وعليكم» ”‏‏‏‏اور تم پر بھی ہو“ کہو۔“

2665

Silsila Sahiha #2665

Sahih

-" كان ناس ياتون رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليهود، فيقولون السام عليك! فيقول: وعليكم. ففطنت بهم عائشة فسبتهم، (وفي رواية: قالت عائشة: بل عليكم السام والذام) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه يا عائشة! [لا تكوني فاحشة] فإن الله لا يحب الفحش ولا التفحش. قالت: فقلت: يا رسول الله إنهم يقولون كذا وكذا. فقال: اليس قد رددت عليهم؟ فانزل الله عز وجل: * (وإذا جاؤك حيوك بما لم يحيك به الله) * إلى آخر الآية".-" كان ناس يأتون رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليهود، فيقولون السام عليك! فيقول: وعليكم. ففطنت بهم عائشة فسبتهم، (وفي رواية: قالت عائشة: بل عليكم السام والذام) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه يا عائشة! [لا تكوني فاحشة] فإن الله لا يحب الفحش ولا التفحش. قالت: فقلت: يا رسول الله إنهم يقولون كذا وكذا. فقال: أليس قد رددت عليهم؟ فأنزل الله عز وجل: * (وإذا جاؤك حيوك بما لم يحيك به الله) * إلى آخر الآية".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہودی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر (‏‏‏‏ «السلام عليكم» کی بجائے) «اَلسَّامُ عَلَيكُم» (‏‏‏‏تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو) کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواباً فرماتے: «وعليكم» ‏‏‏‏ اور تم پر بھی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما ان کی (یہودیوں کی) یہ بات سمجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہا (‏‏‏‏اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: بلکہ تم پر ہلاکت اور مذمت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ رہنے دو! ناپسندیدہ باتیں نہ کیا کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو آپ کو یوں کہہ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏کیا میں نے ان کو (‏‏‏‏اچھے انداز میں) جواب دے نہیں دیا۔“ ‏‏‏‏پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» ”‏‏‏‏اور جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کہتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا“ آیت کے آخر تک (‏‏‏‏سورۃ المجادلہ: ۸)

2666

Silsila Sahiha #2666

Sahih

-" رايت ليلة اسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ فقال: الخطباء من امتك، يامرون الناس بالبر وينسون انفسهم، وهم يتلون الكتاب، افلا يعقلون؟!".-" رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ فقال: الخطباء من أمتك، يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم، وهم يتلون الكتاب، أفلا يعقلون؟!".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور (‏‏‏‏السلام علیکم کی بجائے) کہا: اے محمد! «اَلسَّامُ عَلَيكُم» (‏‏‏‏یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا: ” «وَ عَلَيكَ» ‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَلَيكُم» (‏‏‏‏آپ پر موت ہلاکت پڑے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ «وعليك» (‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو)۔“ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے (‏‏‏‏خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (‏‏‏‏یہودیوں) نے «اَلسَّامُ عَلَيكُم» کہا اور ہم نے بھی (‏‏‏‏بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك»، کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (‏‏‏‏ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔“