Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 2 · Chapter 205

علم سنت اور حدیث نبوی

حدیث نبوی حجت ہے

5 hadiths in this chapter

313

Silsila Sahiha #313

Sahih

-" اوتيت الكتاب وما يعدله (يعني: ومثله)، يوشك شبعان على اريكته يقول: بيننا وبينكم هذا الكتاب، فما كان فيه من حلال احللناه وما كان [فيه] من حرام حرمناه، الا وإنه ليس كذلك. الا لا يحل ذو ناب من السباع ولا الحمار الاهلي، ولا اللقطة من مال معاهد إلا ان يستغني عنها، وايما رجل اضاف قوما فلم يقروه فإن له ان يعقبهم بمثل قراه".-" أوتيت الكتاب وما يعدله (يعني: ومثله)، يوشك شبعان على أريكته يقول: بيننا وبينكم هذا الكتاب، فما كان فيه من حلال أحللناه وما كان [فيه] من حرام حرمناه، ألا وإنه ليس كذلك. ألا لا يحل ذو ناب من السباع ولا الحمار الأهلي، ولا اللقطة من مال معاهد إلا أن يستغني عنها، وأيما رجل أضاف قوما فلم يقروه فإن له أن يعقبهم بمثل قراه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک (اللہ کی) کتاب دی گئی ہے اور دوسری اس کے برابر یعنی اس کی مثل ایک اور چیز بھی دی گئی ہے۔ قریب ہے کہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے ایک پیٹ بھرا شخص یوں کہے: ہمارے اور تمہارے مابین یہ (اللہ کی) کتاب (ہی کافی ہے)۔ جو چیز اس میں حلال ہے، ہم اسے حلال سمجھیں گے اور جو اس میں حرام ہے، ہم اسے حرام سمجھیں گے۔ خبردار! معاملہ اس طرح نہیں ہے، آگاہ رہو! کچلیوں والا درندہ حلال نہیں ہے اور نہ گھریلو گدھا اور نہ ذمی کی گری پڑی چیز، الا یہ کہ اس سے بے نیاز ہوا جائے۔ اور جو آدمی کسی قوم کا مہمان بنا، جبکہ انہوں نے اس کی ضیافت نہیں کی تو اس کے لیے درست ہے کہ میزبانی کے بقدر ان سے وصول کرے۔“

314

Silsila Sahiha #314

Sahih

-" لا ياتي على الناس مائة سنة، وعلى الارض عين تطرف ممن هو حي اليوم".-" لا يأتي على الناس مائة سنة، وعلى الأرض عين تطرف ممن هو حي اليوم".

اردو ترجمہ · Urdu

نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ہو جو کہتے ہو کہ لوگوں پر ابھی تک سو برس نہیں گزریں گے کہ جھپکنے والی آنکھیں ختم ہو جائیں گی۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ لوگوں پر ابھی تک سو سال نہیں گزریں گے کہ وہ جھپکنے والی آنکھ ختم ہو جائے گی جو آج زندہ ہے۔“ اللہ کی قسم! اس امت کی امید سو برس کے بعد بھی ہو گی۔

315

Silsila Sahiha #315

Sahih

-" الا إن الفتنة ههنا، الا إن الفتنة ههنا [قالها مرتين او ثلاثا]، من حيث يطلع قرن الشيطان، [يشير [بيده] إلى المشرق، وفي رواية: العراق]".-" ألا إن الفتنة ههنا، ألا إن الفتنة ههنا [قالها مرتين أو ثلاثا]، من حيث يطلع قرن الشيطان، [يشير [بيده] إلى المشرق، وفي رواية: العراق]".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! فتنہ یہاں ہے، خبردار! فتنہ یہاں ہے (دو یا تین دفعہ فرمایا) یہاں سے شیطان کے سر کا کنارہ طلوع ہو گا۔“ آپ نے یہ فرماتے ہوئے مشرق یا عراق کی طرف اشارہ کیا۔

316

Silsila Sahiha #316

Sahih

- (قد اختلفتم وانا بين اظهركم، وانتم بعدي اشد اختلافا).- (قدِ اختلفتُم وأنا بين أظهُركم، وأنتُم بعدِي أشدُ اختلافاً).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لئے لفظ ”دخان“ چھپایا، پھر اس سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے لفظ ”دخ“ کہہ کر جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذلیل ہو جا، تو ہرگز اپنے درجے (اور حیثیت) سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔“ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس نے کیا جواب دیا تھا؟“ بعض نے کہا: اس نے لفظ ”دخ“ کہا:، جبکہ بعض نے کہا: کہ اس نے لفظ ”زخ“ کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری موجودگی میں اختلاف میں پڑ گئے ہو اور میرے بعد بہت زیادہ اختلاف کرنے والے ہو گے۔“

317

Silsila Sahiha #317

Sahih

-" اتاني جبريل عليه الصلاة والسلام، فاخبرني ان امتي ستقتل ابني هذا (يعني الحسين)، فقلت: هذا؟ فقال: نعم، واتاني بتربة من تربته حمراء".-" أتاني جبريل عليه الصلاة والسلام، فأخبرني أن أمتي ستقتل ابني هذا (يعني الحسين)، فقلت: هذا؟ فقال: نعم، وأتاني بتربة من تربته حمراء".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو قبیح خواب دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: وہ بہت سخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آخر وہ ہے کیا؟“ اس نے کہا: مجھے ایسے لگا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں پھینگا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے عمدہ خواب دیکھا ہے، (اس کی تعبیر یہ ہے کہ ان شاء اللہ میری بیٹی) فاطمہ کا بچہ پیدا ہو گا۔“ واقعی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بچہ حسین پیدا ہوا جو میری گود میں تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے . میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔“ میں نے کہا: یہ بیٹا (حسین)؟ انہوں نے کہا: ”ہاں، وہ میرے پاس اس علاقے کی سرخ مٹی بھی لائے۔“