Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 19 · Chapter 1560

نصيحتين اور دل کو نرم کرنے والی احادیث

اعمال صالحہ انسان کو جنت میں داخل نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی .

2 hadiths in this chapter

2330

Silsila Sahiha #2330

Sahih

- (يا اسد بن كرز! لا تدخل الجنة بعمل، ولكن برحمة الله، [قلت: ولا انت يا رسول الله؛ قال:] ولا انا؛ إلا ان يتلافاني الله، او يتغمدني [الله] منه برحمة).- (يا أسَدُ بْنَ كُرْزٍ! لا تدخلُ الجنةَ بعملٍ، ولكن برحمةِ الله، [قلتُ: ولا أنتَ يا رسول الله؛ قال:] ولا أنا؛ إلا أن يتلافاني الله، أو يتغمدني [الله] منه برحمةٍ).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا اسد بن کرز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے اسد بن کرز! تو اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بل بوتے پر۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ بھی (اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل) نہیں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں) میں بھی نہیں، ہاں اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا (تو جنت میں داخل ہو جاؤں گا۔)“

2331

Silsila Sahiha #2331

Sahih

-" لن يدخل احدا منكم عمله الجنة [ولا ينجيه من النار]، قالوا: ولا انت يا رسول الله؟ قال: ولا انا -[واشار بيده هكذا على راسه:]- إلا ان يتغمدني الله منه بفضل ورحمة، [مرتين او ثلاثا] [فسددوا وقاربوا] [ وابشروا] [واغدوا وروحوا، وشيء من الدلجة، والقصد القصد تبلغوا] [ واعلموا ان احب العمل إلى الله ادومه وإن قل]".-" لن يدخل أحدا منكم عمله الجنة [ولا ينجيه من النار]، قالوا: ولا أنت يا رسول الله؟ قال: ولا أنا -[وأشار بيده هكذا على رأسه:]- إلا أن يتغمدني الله منه بفضل ورحمة، [مرتين أو ثلاثا] [فسددوا وقاربوا] [ وأبشروا] [واغدوا وروحوا، وشيء من الدلجة، والقصد القصد تبلغوا] [ واعلموا أن أحب العمل إلى الله أدومه وإن قل]".

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کو نجات دلائے گا۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں! نہ ہی مجھے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔ ”ہاں اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مجھے ڈھانپ لے (تو کام بن جائے گا)۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین دفعہ ذکر کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائے صواب پر چلتے رہو، میانہ روی اختیار کرو، خوشخبریاں سناتے رہو اور صبح کو، شام کو اور کچھ وقت رات کو عبادت کرتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، اعتدال کو اپناو، منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے اور جان لو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔“ یہ حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے، ان میں سیدنا ابوہریرہ، سیدہ عائشہ، سیدنا جابر، سیدنا ابوسعید خدری، سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔