Silsila Sahiha #2183
-" يا جد! هل لك في جلاد بني الاصفر؟".-" يا جد! هل لك في جلاد بني الأصفر؟".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جد بن قیس! کیا تجھے بنوالاصفر سے تلوار کے ساتھ مقابلہ کرنے کی رغبت ہے؟“ جد نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے (اپنے ساتھ نہ جانے کی) اجازت دے دیں، کیونکہ میں عورتوں سے محبت کرتا ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ بنوالاصفر کی بیٹیوں کو دیکھ کر فتنے میں نہ پڑ جاؤں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نے اعراض کرتے ہوئے اسے فرمایا: ”میں نے تجھے اجازت دے دی ہے۔“ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا» ”اور ان میں سے کوئی تو کہتا ہے: مجھے اجازت دیجئے، مجھے فتنے میں نہ ڈالیے۔ آگاہ رہو! وہ تو فتنے میں پڑ چکے ہیں۔“ (۹-التوبة:۴۹)