Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 17 · Chapter 1359

سفر، جہاد، غزوہ اور جانور کے ساتھ نرمی برتنا

ہر مخلوق کے ساتھ احسان کرنا

2 hadiths in this chapter

2086

Silsila Sahiha #2086

Sahih

-" بينما رجل يمشي بطريق، إذ اشتد عليه العطش، فوجد بئرا فنزل فيها فشرب وخرج فإذا كلب يلهث ياكل الثرى من العطش، فقال الرجل: لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي بلغ مني، فنزل البئر فملا خفه، ثم امسكه بفيه حتى رقي فسقى الكلب فشكر الله له، فغفر له، فقالوا: يا رسول الله وإن لنا في البهائم لاجرا؟ فقال: في كل ذات كبد رطبة اجر".-" بينما رجل يمشي بطريق، إذ اشتد عليه العطش، فوجد بئرا فنزل فيها فشرب وخرج فإذا كلب يلهث يأكل الثرى من العطش، فقال الرجل: لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي بلغ مني، فنزل البئر فملأ خفه، ثم أمسكه بفيه حتى رقي فسقى الكلب فشكر الله له، فغفر له، فقالوا: يا رسول الله وإن لنا في البهائم لأجرا؟ فقال: في كل ذات كبد رطبة أجر".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایک دفعہ کا ذکر ہے کے) ایک آدمی راستے پرچلا جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنواں پایا، پس اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکل آیا، وہیں ایک کتا تھا جو پیاس کے مارے زبان باہر نکالے (ہانپتے ہوئے) کیچڑ چاٹ رہا تھا، پس اس آدمی نے (دل میں) کہا: کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس نے ستایا ہے جس طرح میں اس کی شدت سے بے حال ہو گیا تھا، چنانچہ وہ (دوبارہ) کنویں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا اور اسے اپنے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل اور جذبے کی قدر کی اور اسے معاف کر دیا۔ (یہ سن کر) صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے چوپایوں (پر ترس کھانے) میں بھی اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) ہر تر جگر والے (جاندار کی خدمت اور دیکھ بھال) میں اجر ہے۔“

2087

Silsila Sahiha #2087

Sahih

-" بينما كلب يطيف بركية قد كاد يقتله العطش، إذ راته بغي من بغايا بني إسرائيل فنزعت موقها، فاستقت له به فسقته إياه، فغفر لها به".-" بينما كلب يطيف بركية قد كاد يقتله العطش، إذ رأته بغي من بغايا بني إسرائيل فنزعت موقها، فاستقت له به فسقته إياه، فغفر لها به".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وقت ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا، اسے پیاس مارے دے رہی تھی، اچانک اسے بنی اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک بدکار عورت نے دیکھا، بس اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس کے ذریعے سے اس نے اس کے لیے (کنویں سے) پانی کھینچا اور اسے پلا دیا، پس اس کے اس عمل کی وجہ سے اسے بخش دیا گیا۔“