Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 16 · Chapter 1296

لباس، زینت، لہو و لعب، تصاویر

ٹخنوں سے نیچے تہبند وغیرہ لٹکانا حرام ہے

8 hadiths in this chapter

1947

Silsila Sahiha #1947

Sahih

-" إن الله لا ينظر إلى مسبل الإزار".-" إن الله لا ينظر إلى مسبل الإزار".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ازار کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والے کی طرف نہیں دیکھتا۔“

1948

Silsila Sahiha #1948

Sahih

-" الإزار إلى نصف الساق. فلما راى شدة ذلك على المسلمين، قال: إلى الكعبين لا خير فيما اسفل من ذلك".-" الإزار إلى نصف الساق. فلما رأى شدة ذلك على المسلمين، قال: إلى الكعبين لا خير فيما أسفل من ذلك".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازار (کا نچلا کنارہ) نصف پنڈلی تک ہے۔“ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ حکم مسلمانوں پر گراں گزر رہا ہے تو فرمایا: ”ٹخنوں تک سہی، لیکن ان سے نیچے کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔“

1949

Silsila Sahiha #1949

Sahih

-" كل شيء جاوز الكعبين من الإزار في النار".-" كل شيء جاوز الكعبين من الإزار في النار".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے تجاوز کرے گا، (جسم کا) وہ حصہ آگ میں ہو گا۔“

1950

Silsila Sahiha #1950

Sahih

-" موضع الإزار إلى انصاف الساقين والعضلة، فإذا ابيت فمن وراء الساقين، ولا حق للكعبين في الإزار".-" موضع الإزار إلى أنصاف الساقين والعضلة، فإذا أبيت فمن وراء الساقين، ولا حق للكعبين في الإزار".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازار (کی آخر حد) پنڈلیوں اور پٹھوں کے نصف تک ہے، اگر تو (ایسا کرنے سے) انکار کر دے تو پنڈلی سے نیچے کر لے، لیکن ازار میں ٹخنوں کا کوئی حق نہیں ہے۔“

1951

Silsila Sahiha #1951

Sahih

- (يا سفيان بن سهل! لاتسبل، فإن الله لا يحب المسبلين).- (يا سفيان بن سهل! لاتُسبِل، فإنّ الله لا يحبُّ المسبِلين).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے سفیان بن سہل! (ازار ٹخنوں سے نیچے) نہ لٹکایا کر، کیونکہ اللہ تعالیٰ ازار لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“

1952

Silsila Sahiha #1952

Sahih

-" ارفع إزارك واتق الله".-" ارفع إزارك واتق الله".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف جلدی گئے یا اس کی طرف لپکے اور فرمایا: ”اپنا تہبند بلند کر لو اور اللہ تعالی سے ڈرو۔“ اس نے کہا: میرے پاؤں اندر کی طرف مڑے ہوئے ہیں اور چلتے وقت میرے گھٹنے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا تہبند بلند کر لے، کیونکہ اللہ تعالی کی ہر مخلوق خوبصورت ہے۔“ اس کے بعد اس آدمی کو نہیں دیکھا گیا، مگر اس حالت میں کہ اس کا تہبند پنڈلیوں کے نصف تک ہوتا تہا۔

1953

Silsila Sahiha #1953

Sahih

-" يا عمرو! إن الله عز وجل قد احسن كل شيء خلقه. يا عمرو! - وضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم باربع اصابع من كفه اليمنى تحت ركبة عمرو فقال: - هذا موضع الإزار، ثم رفعها، [ثم ضرب باربع اصابع تحت الاربع الاولى ثم قال: يا عمرو! هذا موضع الإزار]، ثم رفعها، ثم وضعها تحت الثانية، فقال: يا عمرو! هذا موضع الإزار".-" يا عمرو! إن الله عز وجل قد أحسن كل شيء خلقه. يا عمرو! - وضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربع أصابع من كفه اليمنى تحت ركبة عمرو فقال: - هذا موضع الإزار، ثم رفعها، [ثم ضرب بأربع أصابع تحت الأربع الأولى ثم قال: يا عمرو! هذا موضع الإزار]، ثم رفعها، ثم وضعها تحت الثانية، فقال: يا عمرو! هذا موضع الإزار".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمرو بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اس حال میں چل رہا تھا کہ اس نے اپنا ازار (ٹخنوں سے نیچے) لٹکا رکھا تھا، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جا ملے، اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوی تھی اور یہ کہہ رہے تھے: ” اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔“ عمرو کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری پنڈلیاں پتلی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرو! یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے۔ اے عمرو!۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے رکھیں اور فرمایا: ”یہ ازار کی جگہ ہے۔“ پھر ان کو اٹھایا اور پہلے والی چار انگلیوں (کے فاصلے سے) سے نیچے پھر چار انگلیاں رکھیں اور فرمایا: ”یہ ازار کی جگہ ہے۔“ پھر ان کو اٹھایا اور دوسری والی چار انگلیوں کے نیچے رکھا اور فرمایا: ”عمرو! یہ ازار کی جگہ ہے۔“

1954

Silsila Sahiha #1954

Sahih

-" إن كنت عبد الله فارفع إزارك".-" إن كنت عبد الله فارفع إزارك".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے ازار پہنا ہوا تھا، وہ حرکت کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: میں عبداللہ بن عمر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو واقعی اللہ کا بندہ ہے تو اپنے ازار کو بلند کر لے۔“ میں نے اپنا ازار نصف پنڈلیوں تک اٹھا لیا۔ پھر ان کے تہبند کی یہی کیفیت رہی، حتی کہ وہ فوت ہو گئے۔