Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 14 · Chapter 1167

بیماری، نماز جنازہ، قبرستان

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میت پر رونا

2 hadiths in this chapter

1745

Silsila Sahiha #1745

Sahih

-" إنما انا بشر، تدمع العين ويخشع القلب ولا نقول ما يسخط الرب، والله يا إبراهيم إنا بك لمحزونون".-" إنما أنا بشر، تدمع العين ويخشع القلب ولا نقول ما يسخط الرب، والله يا إبراهيم إنا بك لمحزونون".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے اس دن سورج کو گرہن لگ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! رسول اللہ ہونے کے باوجود آپ بھی رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو بشر ہی ہوں، آنکھوں سے آنسوں جاری ہیں، دل عاجزی و انکساری کے عالم میں ہے، لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جو رب کو ناراض کر دے۔ اے ابراہیم! بخدا! ہم تیرے (بچھڑنے کی) وجہ سے غم زدہ ہیں۔“

1746

Silsila Sahiha #1746

Sahih

-" إن المؤمن بكل خير، على كل حال، إن نفسه تخرج من بين جنبيه وهو يحمد الله عز وجل".-" إن المؤمن بكل خير، على كل حال، إن نفسه تخرج من بين جنبيه وهو يحمد الله عز وجل".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی، جو عالم نزع میں مبتلا تھی، کو اٹھایا۔ اسے گود میں لیا اور پھر اپنے سینے سے لگا لیا، اتنے میں وہ فوت ہو گئی۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا چیخ و پکار کرنے لگی۔ اسے کہا گیا کہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں روتی ہے؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کو روتا ہوا نہیں دیکھ رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا:“ ”میں رو تو نہیں رہا، یہ تو محض رحمت (کی علامت) ہے، مومن ہر حال میں خیر پر ہوتا ہے، اس کا سانس اس کے پہلوؤں سے نکل رہا ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر رہا ہوتا ہے۔“