Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 14 · Chapter 1165

بیماری، نماز جنازہ، قبرستان

فرزندان امت کسی کے اچھا یا برا ہونے پر گواہ ہیں

4 hadiths in this chapter

1740

Silsila Sahiha #1740

Sahih

-" إذا صلوا على جنازة واثنوا خيرا، يقول الرب عز وجل: اجزت شهادتهم فيما يعلمون واغفر له ما لا يعلمون".-" إذا صلوا على جنازة وأثنوا خيرا، يقول الرب عز وجل: أجزت شهادتهم فيما يعلمون وأغفر له ما لا يعلمون".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ربیع بن معوذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب لوگ میت کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے ان نیکیوں کی بنا پر اپنے بندے کی شہادت کو نافذ کر دیا جن کو وہ جانتے ہیں اور ان کی برائیوں کو معاف کر دیا جن کو وہ نہیں جانتے۔“

1741

Silsila Sahiha #1741

Sahih

-" إن شهداء الله في الارض امناء الله في الارض في خلقه، قتلوا او ماتوا".-" إن شهداء الله في الأرض أمناء الله في الأرض في خلقه، قتلوا أو ماتوا".

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن زیاد الہانی کہتے ہیں: جب ابوعنبہ خولانی کے پاس شہادت کا (حکم رکھنے والے) لوگوں کا ذکر کیا گیا تو (حاضرین) نے پیٹ کے عارضے سے، طاعون سے مرنے والے لوگوں اور نفاس سے مرنے والی عورت کا ذکر کیا۔ لیکن ابوعنبہ کو غصہ آ گیا، انہوں نے کہا: ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلق خدا کے حق میں دیانتدار لوگ اللہ تعالیٰ کے گواہ ہے، وہ شہید ہوں یا طبعی موت مرنے والے۔“

1742

Silsila Sahiha #1742

Sahih

-" إن بعضكم على بعض شهداء".-" إن بعضكم على بعض شهداء".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزرنے والے جنازے کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جنت) واجب ہو گئی۔“ لوگوں نے اس کے بعد گزرنے والے کسی دوسرے جنازے کی برائی بیان کی، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جہنم) واجب ہو گئی۔“ اور پھر فرمایا: ”تم لوگ ایک دوسرے کے بارے میں گواہی دینے والے ہو۔“

1743

Silsila Sahiha #1743

Sahih

-" إن الرجل ليس كما ذكروا ولكن انتم شهداء الله في الارض وقد غفر له ما لا يعلمون".-" إن الرجل ليس كما ذكروا ولكن أنتم شهداء الله في الأرض وقد غفر له ما لا يعلمون".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے ساتھ نکلے، لوگوں نے اس میت کے بارے میں اچھے کلمات کہے اور اس کی تعریف کی۔ اتنے میں جبرائیل امین آئے اور کہا: ”یہ آدمی اس طرح تھا تو نہیں جیسے لوگ کہہ رہے ہیں، بہرحال تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو، اس لیے اس نے (تمہاری گواہی کو دیکھ کر) اس کے وہ گناہ بھی معاف کر دیے جو یہ لوگ نہیں جانتے تھے۔“