Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 13 · Chapter 1089

علاج کرنا اور تیماردار کرنا

طاعون بیماری اور اس کے احکام

3 hadiths in this chapter

1601

Silsila Sahiha #1601

Sahih

-" إذا سمعتم بالطاعون في ارض فلا تدخلوها، وإذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا منها [فرارا منه]. وفي رواية:" إن هذا الوجع او السقم رجز عذب به بعض الامم قبلكم، [او طائفة من بني إسرائيل]، ثم بقي بعد بالارض، فيذهب المرة، وياتي الاخرى، فمن سمع به في ارض فلا يقدمن عليه، ومن وقع بارض وهو بها فلا يخرجنه الفرار منه".-" إذا سمعتم بالطاعون في أرض فلا تدخلوها، وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا منها [فرارا منه]. وفي رواية:" إن هذا الوجع أو السقم رجز عذب به بعض الأمم قبلكم، [أو طائفة من بني إسرائيل]، ثم بقي بعد بالأرض، فيذهب المرة، ويأتي الأخرى، فمن سمع به في أرض فلا يقدمن عليه، ومن وقع بأرض وهو بها فلا يخرجنه الفرار منه".

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں پتہ چلے کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے، تو اس کی طرف مت جاؤ اور نہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے نکلو۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اس تکلیف یا بیماری کے ذریعے سابقہ امتوں یا بنو اسرائیل کے ایک گروہ کو عذاب دیا گیا، پھر یہ کسی نہ کسی طرح زمین میں باقی رہی، کبھی ختم ہو جاتی تھی اور کبھی آ جاتی تھی۔ اب جس آدمی کو اس کے بارے میں پتہ چلے کہ فلاں علاقے میں یہ بیماری آ گئی ہے تو وہ وہاں نہ آئے اور جو اس علاقے میں (پہلے سے موجود) ہو، وہ وہاں سے فرار ہوتے ہوئے نہ نکلے۔“ یہ حدیث سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا سعد بن ابو وقاص اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے۔

1602

Silsila Sahiha #1602

Sahih

-" الطاعون شهادة لامتي، وخز اعدائكم من الجن، غدة كغدة الإبل، تخرج بالآباط والمراق، من مات فيه مات شهيدا ومن اقام فيه (كان) كالمرابط في سبيل الله ومن فر منه كان كالفار من الزحف".-" الطاعون شهادة لأمتي، وخز أعدائكم من الجن، غدة كغدة الإبل، تخرج بالآباط والمراق، من مات فيه مات شهيدا ومن أقام فيه (كان) كالمرابط في سبيل الله ومن فر منه كان كالفار من الزحف".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون میری امت کے لیے شہادت ہے اور جنوں میں سے تمہارے دشمنوں کے لیے ندامت و پشیمانی ہے۔ اس کا زخم اونٹ کی غدود کی طرح ہوتا ہے، جو بغل اور پیٹ کے نرم حصہ پر نکلتا ہے۔ جو اس بیماری کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہوتا ہے اور جو (اسی علاقے میں) ڈٹا رہا، وہ اللہ کے راستے میں سرحد پر مقیم رہنے والے کی طرح ہوتا ہے اور جس نے فرار اختیار کیا وہ جنگ سے بھاگ جانے والے کی طرح ہوتا ہے۔“

1603

Silsila Sahiha #1603

Sahih

-" الفرار من الطاعون كالفرار من الزحف".-" الفرار من الطاعون كالفرار من الزحف".

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت قیس عدویہ کہتی ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور طاعون سے فرار اختیار کرنے کے بارے میں سوال کیا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون سے فرار اختیار کرنا جنگ سے بھاگ جانے کے مترادف ہے۔“