Silsila Sahiha #1544
-" متعها، فإنه لابد من المتاع ولو نصف صاع من تمر".-" متعها، فإنه لابد من المتاع ولو نصف صاع من تمر".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا حفص بن مغیرہ رضی الله عنہ نے اپنی بیوی فاطمہ کو طلاق دی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور (ساری بات کی وضاحت کر دی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاوند سے فرمایا: ”اس کو کچھ مال وغیرہ دے کر رخصت کرو۔“ اس نے کہا: میرے پاس تو اسے دینے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ نہ کچھ (مال دے کر اسے) فائدہ پہنچانا تو ضروری ہے۔“ پھر فرمایا: ”تو اس کو مال وغیرہ دے کر رخصت کر، اگرچہ وہ کھجور کا نصف صاع ہو۔“