Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 12 · Chapter 1007

شادی، بیویوں کے مابین انصاف، اولاد کی تربیت، ان کے درمیان انصاف اور ان کے اچھے نام

بیوی پر خاوند کے حقوق کے تقاضے

5 hadiths in this chapter

1454

Silsila Sahiha #1454

Sahih

-" إذا اراد احدكم من امراته حاجة فلياتها ولو كانت على تنور".-" إذا أراد أحدكم من امرأته حاجة فليأتها ولو كانت على تنور".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا طلق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی (فطری) ضرورت پوری کرنے کے لیے اپنی بیوی کو بلائے تو وہ اپنے خاوند کے پاس پہنچے، اگرچہ وہ تنور پر ہی ہو۔“

1455

Silsila Sahiha #1455

Sahih

-" إذا دعا الرجل امراته فلتجب وإن كانت على ظهر قتب".-" إذا دعا الرجل امرأته فلتجب وإن كانت على ظهر قتب".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی کو بلائے تو وہ (فورا) تسلیم کرے، اگرچہ وہ پالان پر ہو۔“

1456

Silsila Sahiha #1456

Sahih

- (لا آمر احدا ان يسجد لاحد، ولو امرت احدا ان يسجد لاحد؛ لامرت المراة ان تسجد لزوجها).- (لا آمرُ أحَداً أنْ يسجُدَ لأحَدٍ، ولو أمرْتُ أحداً أنْ يسجُدَ لأحدٍ؛ لأمرتُ المرأةَ أن تسْجدَ لزوجِها).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کے دو طاقتور سانڈ تھے، وہ دونوں مستی میں آ گئے، اس نے ان کو ایک باغ میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، پھر دعا کروانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آ کر کہا: اے اللہ کے نبی! میں ایک ضرورت کے پیش نظر آپ کے پاس آیا ہوں، میرے دو سانڈ ہیں، وہ دونوں مستی میں آ گئے ہیں، میں نے ان کو ایک باغ میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالی ان کو میرے لیے مسخر کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو (چلتے ہیں)۔“ آپ چلے یہاں تک کہ باغ کے دروازے تک پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھولو۔“ دروازہ کھول دیا گیا۔ ایک سانڈ دروازے کے قریب ہی کھڑا تھا، جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کو سجدہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی (رسی وغیرہ) لاؤ تاکہ میں اس کا سر باندھ کر اس کو تیرے لیے مسخر کروں۔“ وہ لگام لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر باندھا اور اسے اس کے لیے مسخر کر دیا۔ پھر دوسرے سانڈ کو پکڑنے کے لیے باغ کے دوسرے کنارے کی طرف گئے، جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے بھی سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: ”کوئی (رسی وغیرہ) لاؤ تاکہ میں اس کا سر باندھ دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر باندھا اور اس کی تسخیر میں دے دیا اور فرمایا: ”جاؤ، اب یہ تیری بغاوت نہیں کریں گے۔“ جب صحابہ نے (سجدہ کرنے کا) منظر دیکھا تو کہا: اے اللہ کے رسول یہ دو سانڈ، جو غیر عاقل ہیں، آپ کو سجدہ کرتے ہیں، کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کا حکم نہیں دیا، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“

1457

Silsila Sahiha #1457

Sahih

- (لو كنت آمرا احدا ان يسجد لاحد؛ لامرت المراة ان تسجد لزوجها، ولا تؤدي المراة حق زوجها؛ حتى لو سالها نفسها على قتب لاعطته).- (لو كنت آمراً أحداً أن يسجد لأحد؛ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها، ولا تؤدي المرأة حق زوجها؛ حتى لو سألها نفسها على قتب لأعطته).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دیکھا ہو گا کہ اہل کتاب اپنے پادریوں اور عالموں کو سجدہ کرتے ہیں۔ کیا ہم بھی آپ کو سجدہ کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے اور بیوی تو اس وقت تک اپنے خاوند کے حق سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی، جب تک ایسا نہ ہو کہ وہ اس سے اس کے نفس کا سوال کرے اور وہ اس کی بات مان لے، اگرچہ وہ پالان پر ہی ہو۔“

1458

Silsila Sahiha #1458

Sahih

-" نهى عن ان تكلم النساء (يعني في بيوتهن) إلا بإذن ازواجهن".-" نهى عن أن تكلم النساء (يعني في بيوتهن) إلا بإذن أزواجهن".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوندوں کی اجازت کے بغیر بیویوں سے (ان کے گھروں میں) گفتگو کرنے سے منع فرمایا۔