Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 10 · Chapter 965

خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان

امت مسلمہ کی قیادت کرنے والوں کی ترتیب

2 hadiths in this chapter

1391

Silsila Sahiha #1391

Sahih

-" تكون النبوة فيكم ما شاء الله ان تكون، ثم يرفعها الله إذا شاء ان يرفعها ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، فتكون ما شاء الله ان تكون، ثم يرفعها إذا شاء ان يرفعها، ثم تكون ملكا عاضا فيكون ما شاء الله ان تكون، ثم يرفعها إذا شاء الله ان يرفعها، ثم تكون ملكا جبريا فتكون ما شاء الله ان تكون، ثم يرفعها إذا شاء ان يرفعها، ثم تكون خلافة على منهاج النبوة. ثم سكت".-" تكون النبوة فيكم ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها الله إذا شاء أن يرفعها ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون ملكا عاضا فيكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها إذا شاء الله أن يرفعها، ثم تكون ملكا جبريا فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون خلافة على منهاج النبوة. ثم سكت".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بشیر اپنی بات کو روک دیتے تھے۔ اتنے میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: بشیر بن سعد! کیا تجھے امرا کے بارے میں کوئی حدیث نبوی یاد ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (اس معاملے میں) مجھے آپ کا خطبہ یاد ہے۔ ابوثعلبہ بیٹھ گئے اور حذیفہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ عرصہ تک نبوت قائم رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اسے اٹھا لیں گے۔ نبوت کے بعد اس کے منہج پر اللہ کی مرضی کے مطابق کچھ عرصہ تک خلافت ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دیں گے، پھر اللہ کے فیصلے کے مطابق کچھ عرصہ تک بادشاہت ہو گی، جس میں ظلم و زیادتی ہو گا، بالآخر وہ بھی ختم ہو جائے گی، پھر جبری بادشاہت ہو گی، وہ کچھ عرصہ کے بعد زوال پزیر ہو جائے گی، اس کے بعد منہج نبوت پر پھر خلافت ہو گی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔“

1392

Silsila Sahiha #1392

Sahih

- (اول هذا الا مر نبوة ورحمة، ثم يكون خلافة ورحمة، ثم يكون ملكا ورحمة، ثم يتكادمون عليه تكادم الحمر، فعليكم بالجهاد، وإن افضل جهادكم الرباط، وإن افضل رباطكم عسقلان).- (أولُ هذا الأ مرِ نبوةٌ ورحمةٌ، ثمَّ يكونُ خلافةٌ ورحمةٌ، ثمّ يكون مُلكاً ورحمةً، ثمّ يتكادمون عليه تكادُم الحُمُرِ، فعليكُم بالجهادِ، وإن أفضل جهادِكم الرِّباطُ، وإن أفضلَ رباطِكم عسقلانُ).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس معاملے کی ابتدا نبوت و رحمت سے ہوئی ہے، اس کے بعد خلافت و رحمت ہو گی اور پھر بادشاہت اور رحمت۔ بعد ازاں گدھوں کا ایک دوسرے کو کاٹنے کی طرح لوگ اس پر ٹوٹ پڑیں گے، تم جہاد کو لازم پکڑنا، بہترین جہاد، رباط (سرحد پر مقیم رہنا) ہے اور (شام کے ساحلی شہر) عسقلان کا رباط سب سے افضل ہے۔“