Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 10 · Chapter 949

خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان

امارت بری چیز ہے، الا یہ کہ .

4 hadiths in this chapter

1361

Silsila Sahiha #1361

Sahih

-" ليوشك رجل ان يتمنى انه خر من الثريا، ولم يل من امر الناس شيئا".-" ليوشك رجل أن يتمنى أنه خر من الثريا، ولم يل من أمر الناس شيئا".

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن شریک کہتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نے اس زیبائش کا کپڑا دے کر مروان کے پاس بھیجا۔ مروان نے چوکیدار سے کہا: دیکھو، دروازے پر کون ہے؟ اس نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور کہا: ابوہریرہ! رسول اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کرو۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”عنقریب آدمی یہ تمنا کرے گا کہ اگر وہ ثریا ستارے سے گر پڑے (تو کوئی بات نہیں، لیکن کہیں) ایسا نہ ہو کہ اسے لوگوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا دیا جائے۔“

1362

Silsila Sahiha #1362

Sahih

-" إن شئتم انباتكم عن الإمارة وما هي؟ اولها ملامة وثانيها ندامة وثالثها عذاب يوم القيامة، إلا من عدل، فكيف يعدل مع اقربيه؟".-" إن شئتم أنبأتكم عن الإمارة وما هي؟ أولها ملامة وثانيها ندامة وثالثها عذاب يوم القيامة، إلا من عدل، فكيف يعدل مع أقربيه؟".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے ہو تو میں تم پر امارت کی حقیقت واضح کر دیتا ہوں کہ یہ ہے کیا؟ سب سے پہلے ملامت ہوتی ہے، اس کے بعد ندامت ہوتی ہے اور آخر میں روز قیامت عذاب ہوتا ہے، مگر وہ جس نے عدل و انصا ف کیا، بھلا کون ہے جو اپنے قرابتداروں کے سا تھ انصاف والا معاملہ کر سکے گا۔

1363

Silsila Sahiha #1363

Sahih

-" إنكم ستحرصون على الإمارة وستكون ندامة [وحسرة] يوم القيامة، فنعم المرضعة وبئست الفاطمة".-" إنكم ستحرصون على الإمارة وستكون ندامة [وحسرة] يوم القيامة، فنعم المرضعة وبئست الفاطمة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یقیناً حکومت اور امارت کی حرص کرو گے (لیکن یاد رکھو کہ) یہ قیامت والے دن ندامت اور حسرت (کا باعث) ہو گی، دودھ پلانے والی تو بڑی اچھی ہوتی ہے لیکن دودھ چھڑانے والی بڑی بری ہوتی ہے (یعنی امارت کے آغاز میں تو سکون ملتا ہے لیکن اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا)۔“

1364

Silsila Sahiha #1364

Sahih

-" ما من رجل يلي امر عشرة فما فوق ذلك إلا اتى الله عز وجل مغلولا يوم القيامة يده إلى عنقه فكه بره او اوبقه إثمه، اولها ملامة واوسطها ندامة وآخرها خزى يوم القيامة".-" ما من رجل يلي أمر عشرة فما فوق ذلك إلا أتى الله عز وجل مغلولا يوم القيامة يده إلى عنقه فكه بره أو أوبقه إثمه، أولها ملامة وأوسطها ندامة وآخرها خزى يوم القيامة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی دس افراد کے معاملات کی ذمہ داری سنبھالتا ہے، وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن تک جکڑے ہوں گے۔ اس کی نیکی اس کو آزاد کرائے گی یا اس کی برائی اس کو ہلاک کر دے گی۔ (اس امارت) کی ابتدا میں ملامت، درمیان میں ندامت اور آخر میں یعنی قیامت کے روز رسوائی ہوتی ہے۔“