Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 1 · Chapter 54

ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان

دوران عبادت عابد کی کیفیت

3 hadiths in this chapter

105

Silsila Sahiha #105

Sahih

-" اعبد الله كانك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك، واعدد نفسك في الموتى وإياك ودعوة المظلوم فإنها تستجاب، ومن استطاع ان يشهد الصلاتين العشاء والصبح ولو حبوا فليفعل".-" اعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك، واعدد نفسك في الموتى وإياك ودعوة المظلوم فإنها تستجاب، ومن استطاع أن يشهد الصلاتين العشاء والصبح ولو حبوا فليفعل".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب ان کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت اس طرح کرو، کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم نہیں دیکھ رہے تو وہ تو یقینا تمہیں دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مردہ شمار کرو اور مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ وہ قبول ہوتی ہے اور جو آدمی عشاء اور فجر کی نمازوں میں آ سکتا ہے تو وہ آئے اگرچہ اسے گھسٹ کر آنا پڑے۔“

106

Silsila Sahiha #106

Sahih

-" اعبد الله كانك تراه، وكن في الدنيا كانك غريب او عابر سبيل".-" اعبد الله كأنك تراه، وكن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا ایک حصہ پکڑا اور فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور دنیا میں اس طرح ہو جاؤ گویا کہ تم اجنبی یا مسافر ہو۔“

107

Silsila Sahiha #107

Sahih

-" اعبد الله كانك تراه واعدد نفسك في الموتى واذكر الله عند كل حجر وعند كل شجر وإذا عملت سيئة فاعمل بجنبها حسنة السر بالسر والعلانية بالعلانية".-" اعبد الله كأنك تراه واعدد نفسك في الموتى واذكر الله عند كل حجر وعند كل شجر وإذا عملت سيئة فاعمل بجنبها حسنة السر بالسر والعلانية بالعلانية".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کرو، کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اپنے آپ کو مردہ تصور کرو، ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو اور جب برائی کا ارتکاب کر بیٹھو تو اس کے ساتھ ہی نیکی کر لو (تاکہ برائی کا اثر ذائل ہو جائے)، مخفی برائی کے بدلے نیکی بھی مخفی کی جائے اور اعلانیہ برائی کے بدلے نیکی بھی اعلانیہ کی جائے۔“