Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 1 · Chapter 34

ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان

تقدیر

10 hadiths in this chapter

63

Silsila Sahiha #63

Sahih

-" لا يؤمن عبد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره، حتى يعلم ان ما اصابه لم يكن ليخطئه، وان ما اخطاه لم يكن ليصيبه".-" لا يؤمن عبد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره، حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه، وأن ما أخطأه لم يكن ليصيبه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک تقدیر پر ایمان نہیں لاتا وہ اچھی ہو یا بری اور جب تک اسے یہ (پختہ) علم نہیں ہو جاتا کہ (اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق) جس چیز نے اسے لاحق ہونا ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو ٹل گئی وہ لاحق نہیں ہو سکتی۔“

64

Silsila Sahiha #64

Sahih

-" لا يزال امر هذه الامة مواتيا او مقاربا ما لم يتكلموا في الولدان والقدر".-" لا يزال أمر هذه الأمة مواتيا أو مقاربا ما لم يتكلموا في الولدان والقدر".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کا معاملہ اس وقت تک ہمنوائی، ہم خیالی، (اتحاد اور موافقت) والا رہے گا جب تک یہ لوگ بچوں اور تقدیر (کے مسائل) میں گفتگو نہیں کریں گے۔“

65

Silsila Sahiha #65

Sahih

- (لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يعلم ان ما اصابه لم يكن ليخطئه، وما اخطاه لم يكن ليصيبه).- (لا يَبلُغُ عَبدٌ حَقيقةَ الإيمانِ حتى يَعْلَمَ أنَّ ما أصابَهُ لم يَكُنْ لِيُخْطِئهُ، وما أَخْطَأَهُ لم يَكُنْ لِيُصيبَهُ).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا، جب تک اسے یہ (پختہ) علم نہ ہو جائے کہ (اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے فیصلے کے مطابق) جس چیز نے اسے لاحق ہونا ہے وہ تجاوز نہیں کر سکتی اور جو چیز تجاوز کر گئی وہ لاحق نہیں ہو سکتی۔“

66

Silsila Sahiha #66

Sahih

-" كل شيء بقدر حتى العجز والكيس، او العجز والكيس".-" كل شيء بقدر حتى العجز والكيس، أو العجز والكيس".

اردو ترجمہ · Urdu

طاوس یمانی کہتے ہیں: جتنے صحابہ کرام سے میری ملاقات ہوئی وہ کہتے تھے: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے اور میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے، حتیٰ کہ بے بسی و لاچارگی اور عقل و دانش بھی۔“

67

Silsila Sahiha #67

Sahih

-" لكل شيء حقيقة، وما بلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يعلم ان ما اصابه لم يكن ليخطئه وما اخطاه لم يكن ليصيبه".-" لكل شيء حقيقة، وما بلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وما أخطأه لم يكن ليصيبه".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور آدمی ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے اس چیز کا (پختہ) علم نہ ہو جائے کہ جو چیز (اللہ کی تقدیر کے فیصلے کے مطابق) اسے لاحق ہونی ہے وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتی اور جس چیز نے اس سے تجاوز کرنا ہے وہ اسے لاحق نہیں ہو سکتی۔“

68

Silsila Sahiha #68

Sahih

-" نزلت في اناس من امتي في آخر الزمان يكذبون بقدر الله عز وجل. يعني قوله تعالى: * (ذوقوا مس سقر. إنا كل شيء خلقناه بقدر) *".-" نزلت في أناس من أمتي في آخر الزمان يكذبون بقدر الله عز وجل. يعني قوله تعالى: * (ذوقوا مس سقر. إنا كل شيء خلقناه بقدر) *".

اردو ترجمہ · Urdu

ابن زرارہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آیت میری امت کے آخری زمانے کے تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی «ذوقوا مس سقر. إنا كل شيء خلقناه بقدر» دوزخ کے آگے لگنے کے مزے چکھو۔ بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرر اندازے پر پیدا کیا ہے۔“

69

Silsila Sahiha #69

Sahih

-" ثلاثة لا يقبل الله منهم صرفا ولا عدلا: عاق ومنان ومكذب بالقدر".-" ثلاثة لا يقبل الله منهم صرفا ولا عدلا: عاق ومنان ومكذب بالقدر".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تین قسم کے اشخاص کی فرضی عبادت نہ قبول ہوتی ہے نہ نفلی: نافرمان و بدسلوک، احسان جتلانے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا۔“

70

Silsila Sahiha #70

Sahih

- (إن اهل الجنة ييسرون لعمل اهل الجنة، وإن اهل النار ييسرون لعمل اهل النار).- (إنّ أهل الجنّة ييسرون لعمل أهل الجنة، وإنّ أهل النار ييسرون لعمل أهل النار).

اردو ترجمہ · Urdu

یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ملے، ہم نے ان کے سامنے تقدیر اور اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات کا تذکرہ کیا مزینہ یا جہنیہ قبیلہ کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز میں عمل کر رہے ہیں؟ آیا اس (تقدیر) کے مطابق فیصلہ کیا جا چکا ہے یا ازسرِنو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (تقدیر) کے مطابق جس کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا ہے۔“ اس نے یا کسی اور آدمی نے کہا: ”تو پھر عمل کی کیا حقیقت رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت کے لیے جنتیوں کے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں اور اہل جہنم کے لیے جہنمیوں کے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں۔“

71

Silsila Sahiha #71

Sahih

-" كل امرئ مهيا لما خلق له".-" كل امرئ مهيأ لما خلق له".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ جو عمل کر رہے ہیں،آیا ان کا (پہلے ہی سے فیصلہ کر کے) ان سے فارغ ہوا جا چکا ہے یا ہم ازسرِنو عمل کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ””اس معاملے (کا فیصلہ کر کے) اس سے فراغت حاصل کی جا چکی ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کاہے کا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا اسے اسی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔“

72

Silsila Sahiha #72

Sahih

- (إن اول شيء خلقه الله عز وجل: القلم، فاخذه بيمينه- وكلتا يديه يمين- قال: فكتب الدنيا وما يكون فيها من عمل معمول: بر او فجور، رطب او يابس، فاحصاه عنده في الذكر، ثم قال: اقراوا إن شئتم: (هذا كتابنا ينطق عليكم بالحق إنا كنا نستنسخ ما كنتم تعملون) ؛ فهل تكون النسخة إلا من امر قد فرغ منه).- (إنَّ أول شيءٍ خَلَقَهَ الله عزَّ وجلَّ: القلمُ، فأخذَهُ بيمينه- وكلتا يديهِ يمين- قال: فكتبَ الدنيا وما يكونُ فيها من عملٍ معمولٍ: بِرَّ أو فجورٍ، رطب أو يابس، فأحصاهُ عندَه في الذِّكر، ثم قال: اقرَأُوا إن شئتم: (هذا كتابُنا يَنْطِقُ عليكم بالحق إنا كنا نَسْتَنْسِخُ ما كنتم تعملون) ؛ فهل تكون النسخةُ إلا مِنْ أمرٍ قد فُرغَ منه).

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اسے اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑا۔ اور اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ اور دنیا کو، اور دنیا میں کی جانے والی ہر نیکی و بدی اور رطب و یابس کو لکھا اور سب چیزوں کو اپنے پاس لوح محفوظ میں شمار کر لیا پھر فرمایا: اگر چاہتے ہو تو (اس مصداق والی یہ آیت) پڑھ لو: «هذا كتابُنا يَنْطِقُ عليكم بالحق إنا كنا نَسْتَنْسِخُ ما كنتم تعملون» ”یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ مچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے ہیں“ (سورۃجاثیہ:29)۔ لکھنا اور نقل کرنا اسی امر میں ہوتا ہے جس سے فارغ ہوا جا چکا ہو۔“