Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 1 · Chapter 27

ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان

غیر اللہ کی قسم منع ہے

4 hadiths in this chapter

53

Silsila Sahiha #53

Sahih

-" كل يمين يحلف بها دون الله شرك".-" كل يمين يحلف بها دون الله شرك".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھانا شرک ہے۔“

54

Silsila Sahiha #54

Sahih

-" قولوا: ما شاء الله ثم شئت، وقولوا: ورب الكعبة".-" قولوا: ما شاء الله ثم شئت، وقولوا: ورب الكعبة".

اردو ترجمہ · Urdu

جہینہ قبیلے کی خاتون سیدہ قتیلہ بنت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: تم لوگ شرک کرتے ہو کیونکہ تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور تم چاہو اور تم کعبہ کی قسم اٹھاتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر فرمایا: ”تم کہا کرو: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو اور قسم اٹھاتے وقت کہا کرو: رب کعبہ کی قسم۔“

55

Silsila Sahiha #55

Sahih

-" احلفوا بالله وبروا واصدقوا، فإن الله يكره ان يحلف إلا به".-" احلفوا بالله وبروا واصدقوا، فإن الله يكره أن يحلف إلا به".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اٹھایا کرو، اسے پورا کیا کرو اور سچ بولا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ غیر کی قسم اٹھانے کو ناپسند کرتا ہے۔“

56

Silsila Sahiha #56

Sahih

-" من حلف فليحلف برب الكعبة".-" من حلف فليحلف برب الكعبة".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ قتیلہ بنت صفی جہنیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! تم بہترین لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم شرک نہ کرتے ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) وہ کیسے؟“ اس نے کہا: جب تم قسم اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اب جو آدمی بھی قسم اٹھائے وہ کعبہ کے رب کی قسم اٹھائے (نہ کہ کعبہ کی)۔“ اس نے پھر کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! تم بڑے اچھے لوگ ہو، لیکن کہ کاش کہ تم اللہ کے لیے اس کا ہمسر نہ ٹھہراتے ہوتے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! وہ کیسے؟ اس نے کہا: تم کہتے ہو کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اگر کوئی آدمی ”ماشاء اللہ“ کہے تو وہ «ثُم شئت» “ کہے (یعنی: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو)۔“