Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 1 · Chapter 150

ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان

نیکوں اور بدوں کے مناہج اور منازل جدا جدا ہیں

3 hadiths in this chapter

248

Silsila Sahiha #248

Sahih

-" كما لا يجتنى من الشوك العنب، كذلك لا ينزل الابرار منازل الفجار، فاسلكوا اي طريق شئتم، فاي طريق سلكتم وردتم على اهله".-" كما لا يجتنى من الشوك العنب، كذلك لا ينزل الأبرار منازل الفجار، فاسلكوا أي طريق شئتم، فأي طريق سلكتم وردتم على أهله".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا یزید بن مرثد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسے کانٹوں سے انگور نہیں چنے جاتے، اس طرح بدکاروں کی منازل پر نیکوروں کو نہیں اتارا جاتا۔ جس راستہ پر چلنا چاہتے ہو چلو (لیکن اتنا یاد رکھو کہ) جون سا راستہ اختیار کرو گے اسی پر چلنے والوں کے پاس پہنچ جاؤ گے۔“

249

Silsila Sahiha #249

Sahih

-" لقلب ابن آدم اشد انقلابا من القدر إذا اجتمعت غليانا".-" لقلب ابن آدم أشد انقلابا من القدر إذا اجتمعت غليانا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس وقت تک کسی آدمی کو صاحب خیر یا شر نہیں کہتا، جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ کس عمل پر اس کا خاتمہ ہو رہا ہے، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے۔ کہا گیا: تم نے کون سی حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہونے والا ہے جو ابل رہی ہو۔“

250

Silsila Sahiha #250

Sahih

-" لا تعجبوا بعمل احد حتى تنظروا بما يختم له، فإن العامل يعمل زمانا من دهره، او برهة من دهره بعمل صالح لو مات (عليه) دخل الجنة، ثم يتحول فيعمل عملا سيئا، وإن العبد ليعمل زمانا من دهره بعمل سيىء لو مات (عليه) دخل النار، ثم يتحول فيعمل عملا صالحا، وإذا اراد الله بعبد خير استعمله قبل موته فوفقه لعمل صالح، (ثم يقبضه عليه)".-" لا تعجبوا بعمل أحد حتى تنظروا بما يختم له، فإن العامل يعمل زمانا من دهره، أو برهة من دهره بعمل صالح لو مات (عليه) دخل الجنة، ثم يتحول فيعمل عملا سيئا، وإن العبد ليعمل زمانا من دهره بعمل سيىء لو مات (عليه) دخل النار، ثم يتحول فيعمل عملا صالحا، وإذا أراد الله بعبد خير استعمله قبل موته فوفقه لعمل صالح، (ثم يقبضه عليه)".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے عمل کو دیکھ کر اس کے (نیک و بد) ہونے کا فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرو، دیکھو کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے، کیونکہ (یہ حقیقت ہے کہ) عامل کچھ زمانہ نیک اعمال کرتا رہتا ہے، اگر انہی اعمال پر اس کو موت آ جائے تو وہ جنتی ہو گا، لیکن اس کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ برے عمل کرنا شروع کر دیتا ہے (اور ان پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے)۔ اسی طرح ایک انسان کچھ عرصہ تک برے عمل کرتا رہتا ہے، اگر انہی پر اس کو موت آجائے تو وہ آگ میں داخل ہو گا، لیکن ہوتا یوں ہے کہ اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ نیک عمل شروع کر دیتا ہے (اور ان پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے)۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے خیر و بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے موت سے قبل نیک اعمال کی توفیق دے دیتے ہیں، پھر اس کی روح قبض کر لیتے ہیں۔“