Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 1 · Chapter 132

ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان

نابالغ بچوں کا اخروی انجام

3 hadiths in this chapter

202

Silsila Sahiha #202

Sahih

-" لا يزال امر هذه الامة مواتيا او مقاربا ما لم يتكلموا في الولدان والقدر".-" لا يزال أمر هذه الأمة مواتيا أو مقاربا ما لم يتكلموا في الولدان والقدر".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کا معاملہ اس وقت تک ہم نوائی، ہم خیالی، (اتحاد اور موافقت) والا رہے گا، جب تک بچوں اور تقدیر (کے مسائل) میں گفتگو نہیں کریں گے۔“

203

Silsila Sahiha #203

Sahih

-" سالت ربي اللاهين، فاعطانيهم. قلت: وما اللاهون؟ قال: ذراري البشر".-" سألت ربي اللاهين، فأعطانيهم. قلت: وما اللاهون؟ قال: ذراري البشر".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے «لاهين» کا سوال کیا، اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ عطا کر دئیے۔“ میں نے کہا: کہ «لاهين» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسانی بچے۔“

204

Silsila Sahiha #204

Sahih

-" ما بال قوم جاوزهم القتل اليوم حتى قتلوا الذرية! فقال رجل: يا رسول الله: إنما هم اولاد المشركين! فقال: الا إن خياركم ابناء المشركين، ثم قال: الا لا تقتلوا ذرية، الا لا تقتلوا ذرية، قال: كل نسمة تولد على الفطرة حتى يهب عنها لسانها فابواها يهودانها وينصرانها".-" ما بال قوم جاوزهم القتل اليوم حتى قتلوا الذرية! فقال رجل: يا رسول الله: إنما هم أولاد المشركين! فقال: ألا إن خياركم أبناء المشركين، ثم قال: ألا لا تقتلوا ذرية، ألا لا تقتلوا ذرية، قال: كل نسمة تولد على الفطرة حتى يهب عنها لسانها فأبواها يهودانها وينصرانها".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ جہاد کیا، ایک دن میں نے (مخالف لشکر کے) بڑے بڑے لوگوں کو اچانک قتل کیا اور مجاہدین نے ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ قتل اپنی حد سے تجاوز کر گیا ہے اور بچوں کو بھی تہ تیغ کر دیا گیا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوں کے بچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں مختار و منتخب لوگ بھی مشرکوں کے بچے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”خبردار! بچوں کو قتل نہیں کرنا۔ خبردار! بچوں کو قتل نہیں کرنا، ہر انسان (اسلام کی) فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان وضاحت کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔“