Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 1 · Chapter 101

ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان

اسلام کی علامات

2 hadiths in this chapter

167

Silsila Sahiha #167

Sahih

-" إن للإسلام صوى ومنارا كمنار الطريق، منها ان تؤمن بالله ولا تشرك به شيئا وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وحج البيت والامر بالمعروف والنهي عن المنكر وان تسلم على اهلك إذا دخلت عليهم وان تسلم على القوم إذا مررت بهم فمن ترك من ذلك شيئا، فقد ترك سهما من الإسلام ومن تركهن" كلهن"، فقد ولى الإسلام ظهره".-" إن للإسلام صوى ومنارا كمنار الطريق، منها أن تؤمن بالله ولا تشرك به شيئا وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وحج البيت والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وأن تسلم على أهلك إذا دخلت عليهم وأن تسلم على القوم إذا مررت بهم فمن ترك من ذلك شيئا، فقد ترك سهما من الإسلام ومن تركهن" كلهن"، فقد ولى الإسلام ظهره".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستے کی طرح اسلام کی بھی کچھ نشانیاں اور علامتیں ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، گھر والوں پر داخل ہوتے وقت ان پر سلام کرنا اور لوگوں کے پاس سے گزرتے وقت انہیں سلام کہنا۔ جس نے ان امور میں سے کسی میں کمی کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اسلام کی ایک شق ترک کر دی اور جس نے ان تمام چیزوں کو ترک کر دیا، اس نے تو اسلام کی طرف اپنی پیٹھ پھیر دی (یا اسلام کو پس پشت ڈال دیا)۔“

168

Silsila Sahiha #168

Sahih

-" كل مسلم على مسلم محرم، اخوان نصيران، لا يقبل الله عز وجل من مشرك بعدما اسلم عملا او يفارق المشركين إلى المسلمين".-" كل مسلم على مسلم محرم، أخوان نصيران، لا يقبل الله عز وجل من مشرك بعدما أسلم عملا أو يفارق المشركين إلى المسلمين".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے اپنی انگلیوں کی تعداد کے برابر قسمیں اٹھائی تھیں کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین اختیار کروں گا، لیکن اب میں آ گیا ہوں۔ میں ایک بےسمجھ سا انسان ہوں اور مجھے اللہ اور رسول کی سکھائی ہوئی صرف چند معلومات کا علم ہے، اب میں اللہ تعالی کی ذات کا واسطہ دے کر آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کے رب نے آپ کو کون سی چیز کے ساتھ مبعوث کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ۔“ میں نے کہا: اسلام کی علامتیں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ اللہ تعالی کے لئے مطیع کر دیا اور اس کے حق میں دستبردار ہو گیا اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے حرمت والا ہے، (اس مذہب میں) دو بھائی ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہوتے ہیں اور اللہ تعالی مشرک کے مسلمان ہونے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی طرف نہ آ جائے۔“