Muslim99Muslim99

Shamail-E-Tirmazi · Book 36 · Chapter 36

The way of humor (humor and fun) of the messenger of allah (peace and blessings of allah be upon him).

The way of humor (humor and fun) of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح (خوش طبعی اور دل لگی) کاطریقہ

6 hadiths in this chapter

231

Shamail-E-Tirmazi #231

Sahih

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ((يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ)) قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: ((يَعْنِي يُمَازِحُهُ))

English

Anas ibn Maalik radiyallahu anhu relates, “Rasoolullah ﷺ once told him jokingly, Ya dhal udhunayn (O’ two eared one).”

اردو ترجمہ · Urdu

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ’’اے دوکانوں والے‘‘ راوی محمود (بن غیلان) کہتے ہیں ا بواسامہ نے کہا: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا۔‘‘

232

Shamail-E-Tirmazi #232

Sahih

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: ((يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟)) قَالَ أَبُو عِيسَى: " وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُمَازِحُ وَفِيهِ أَنَّهُ كَنَّى غُلَامًا صَغِيرًا فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ. وَفِيهِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ أَنْ يُعْطَى الصَّبِيُّ الطَّيْرَ لِيَلْعَبَ بِهِ. وَإِنَّمَا قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟)) لِأَنَّهُ كَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، فَحَزِنَ الْغُلَامُ عَلَيْهِ فَمَازَحَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟))

English

Anas radiyallahu anhu says, “Rasoolullah ﷺ used to associate with us and joke. I had a younger brother. Rasoolullah ﷺ said to him, ‘Aba Umayr, what happened to the Nughayr?”

اردو ترجمہ · Urdu

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بلاشبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اتنے مل جل جاتے تھے کہ ایک مرتبہ میرے چھوٹے بھائی کو کہا: اے عمیر کے باپ ! تمہارا نغیر کیسا ہے؟امام ابوعیسیٰ (ترمذی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزاح بھی فرمالیا کرتے تھے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کی کنیت ابوعمیر رکھی، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اس میں کوئی امر مانع نہیں کہ بچے کو پرندہ دیا جائے کہ وہ اس سے کھیلے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: یَا أَبَا عُمَیْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ اس سے مراد یہ ہے کہ اس بچے کے پاس ایک نغیر تھی جس سے وہ کھیلتا تھا وہ نغیرمر گئی تو اس بچے کو افسوس ہوا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دل لگی اور خوش طبعی کرتے ہوئے فرمایا: یَا أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ۔‘‘

233

Shamail-E-Tirmazi #233

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: أَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: أَنبأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارِكِ، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا قَالَ: ((إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَا حَقًّا)) تَدَاعِبُنَا یَعْنِي تُمَازِحُنَا

English

Abu Hurairah (RA) radiyallahu anhu reports, “The Sahaabah asked, ‘O’ Messenger of Allah, you joke with us?’ Rasoolullah ﷺ replied, ‘Yes, I do not say but the truth.”

اردو ترجمہ · Urdu

’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مزاح بھی فرما لیتے ہیں ؟ فرمایا: ’’(ہاں ) مگر میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔‘‘ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں آمدہ لفظ تُدَاعِبُنَا کا معنی تُمَازِحُنَا ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مزاح کرتے ہیں۔‘‘

234

Shamail-E-Tirmazi #234

Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ)) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَا النُّوقُ))

English

Anas ibn Malik radiyallahu anhu relates that a person requested Rasoolullah ﷺ that he be given a conveyence. Rasoolullah ﷺ replied, “The baby of a camel shall be given to you.” The person said, “What shall I do with the baby of a camel O’ Messenger of Allah? ﷺ ” (I want one for a conveyence). Rasoolullah ﷺ replied, “Every camel is the baby of a camel.”

اردو ترجمہ · Urdu

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری طلب کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔‘‘ وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سواری کے قابل) اونٹ کو بھی تو اونٹنی ہی جنم دیتی ہے۔‘‘

235

Shamail-E-Tirmazi #235

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا وَكَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً مِنَ الْبَادِيَةِ، فَيُجَهِّزُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ)) وَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لَا يُبْصِرُهُ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ أَرْسِلْنِي. فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لَا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَرَفَهُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْعَبْدَ)) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي كَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لَكِنْ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ)) أَوْ قَالَ: ((أَنتَ عِنْدَ اللَّهِ غَالٍ))

English

Anas ibn Malik radiyallahu anhu reports, “A resident of the wilde ess whose name was Zaahir (ibn Hiraam AlAshja’ee), whenever he visited Rasooluallah ﷺ he brought with him presents of the wilde ess, vegetables etc., and presented it to Rasoolullah ﷺ. When he intended to leave Madinah, Rasoolullah ﷺ used to present him with provisions of the city. Once Rasoolullah ﷺ said, ‘Zaahir is our wilde ess, and we are his city.’ Rasoolullah ﷺ was attached to him. Zaahir radiyallahu anhu was not very handsome. Rasoolullah ﷺ once approached him while he was selling his merchandise. Rasoolullah ﷺ caught him in between the arms from the back in such a manner that he (Sayyidina Zaahir radiyallahu anhu) could not see him. Zaahir radiyallahu anhu said, ‘Who is this?, leave me.’ But when he saw with the co er of his eye that it was Rasoolullah ﷺ, he straightened his back and began pressing it to the chest of Rasoolullah ﷺ (For as long as he gained this opportunity it was better than a thousand gifts). Rasoolullah ﷺ then said, ‘Who will purchase this slave?’ Zaahir radiyallahu anhu replied, ‘O’ Rasool of Allah, if you shall sell me, you will be selling a defective thing, and will ea a very little sum.’ Rasoolullah ﷺ said, ‘No, you are not defective in the sight of Allah, but very valuable.”

اردو ترجمہ · Urdu

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص دیہات کا رہنے والا تھا جس کا نام زاھر تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو دیہات کا کوئی تحفہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتا، پھر جب وہ شخص جانے کا ارادہ کرتا تو رسول ِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کوئی تحفہ عنایت فرماتے۔ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زاھر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص سے محبت کرتے تھے، اور وہ آدمی قدرے بدصورت تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس اس حالت میں آئے کہ وہ اپنا کچھ سامان فروخت کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے آکر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا اور اس کو اپنے ساتھ لگالیا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ وہ کہنے لگا، یہ کون ہے؟ مجھے چھوڑو۔ جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا تو اپنی کمر کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ لگانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس غلام کا کون خریدار ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھے تو آپ گھاٹے کا سودا پائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لیکن تو اللہ تعالیٰ کے ہاں گھاٹے والا نہیں ہے۔‘‘ یا فرمایا: ’’تو اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا قیمتی ہے۔‘‘

236

Shamail-E-Tirmazi #236

See Details

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ،حَدَّثَنَا الْمُبَارِكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : أَتَتْ عَجُوزٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: ((يَا أُمَّ فُلَانٍ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَدْخُلُهَا عَجُوزٌ)) قَالَ: فَوَلَّتْ تَبْكِي فَقَالَ: ((أَخْبِرُوهَا أَنَّهَا لَا تَدْخُلُهَا وَهِيَ عَجُوزٌ)) إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ﴿إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا﴾ [الواقعة: 35- 37]

English

Hasan Basri radiyallahu anhu says that an old woman came to Rasoolullah ﷺ and made a request, “O’ Messenger of Allah ﷺ make Dua that Allah grants me entrance into Jannah.” Rasoolullah ﷺ replied, “O’ Mother, an old woman cannot enter Jannah.” That woman started crying and began to leave. Rasoolullah ﷺ said, “Say to the woman that one will not enter in a state of old age, but Allah will make all the women of Jannah young virgins. Allah Ta’aala says, “Lo! We have created them a (new) creation and made them virgins, lovers, equal in age.” (Surah Waaqi’ah, 3537).

اردو ترجمہ · Urdu

’’حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ میں جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے فلان شخص کی والدہ! جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہیں ہوگی۔‘‘ (حسن بصری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ وہ بڑھیا روتی ہوئی واپس چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے خبر کردو کہ کوئی عورت بڑھاپے کی حالت میں نہیں جائے گی (بلکہ نوجوان دو شیزہ بن کر جائے گی) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْکَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا﴾کہ ہم نے ان عورتوں کو اس خاص انداز پر پیدا کیا کہ وہ کنواریاں، دل پسند اور ہم عمر ہیں۔‘‘