Muslim99Muslim99

Sahih Muslim · Book 12 · Chapter 379

The book of prayer - eclipses

34. باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا۔

Chapter: Prohibition against sitting and praying on graves

قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت

3 hadiths in this chapter

2252

Sahih Muslim #2252

Sahih

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِإسحاق، قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إسحاق: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْ أَنْ يَمُرَّ بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: " مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ، مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ".

English

Abbad b. 'Abdullah b. Zubair reported that 'A'isha ordered the bier of Sa'd b. Abu Waqqas to be brought into the mosque so that she should pray for him. The people disapproved this (act) of hers. She said: How soon the people have forgotten that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) offered not the funeral prayer of Suhail b al-Baida' but in a mosque.

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالعزیز بن محمد نے عبدالواحد بن حمزہ سے اور انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے ( تاکہ ) وہ بھی ان کا جنازہ ادا کرسکیں ۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بدری صحابی ) سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی ۔

2253

Sahih Muslim #2253

Sahih

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ، فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ، أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ، فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: مَا كَانَتِ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: " مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ، عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ ".

English

Abbad b. 'Abdullah b. Zubair reported on the authority of 'A'isha that when Sa'd b. Abu Waqqas died, the wives of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent message to bring his bier into the mosque so that they should offer prayer for him. They (the participants of the funeral) did accordingly, and it was placed in front of their apartments and they offered prayer for him. It was brought out of the door (known as) Bab al-Jana'iz which was towards the side of Maqa'id, and the news reached them (the wives of the Holy Prophet) that the people bad criticised this (i. e. offering of funeral prayer in the mosque) saying that it was not desirable to take the bier inside the mosque. This was conveyed to 'A'isha. She said: How hastily the people criticise that about which they know little. They criticise us for carrying the bier in the mosque. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) offered not the funeral prayer of Suhail b. Baida' but in the innermost part of the mosque.

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ بن عقبہ نے عبدالواحد سے اور انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ان کے جنازے کو مسجد میں سے گزار کرلے جائیں تا کہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کرسکیں تو انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے ایسا ہی کیا ، اس جنازے کو ان کے حجروں کے سامنے روک ( کررکھ ) دیا گیا ( تاکہ ) وہ نماز جنازہ پڑھ لیں ۔ ( پھر ) اس ( جنازے ) کو باب الجنائز سے ، جو مقاعد کی طرف ( کھلتا ) تھا ، باہر نکالا گیا ۔ اس کے بعد ان ( ازواج ) کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے معیوب سمجھا ہے اور کہا ہے : جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا ۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچی تو انھوں نے فرمایا : لوگوں نےاس کام کو معیوب سمجھنے میں کتنی جلدی کی جس کا انھیں علم نہیں!انھوں نے ہماری اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں لایاجائے ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا ۔

2254

Sahih Muslim #2254

Sahih

وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ: ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: " وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ: سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ "، قَالَ مُسْلِم: سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَاءِ أُمُّهُ بَيْضَاءُ.

English

Abu Salama b. 'Abd al-Rahman reported on the authority ot 'A'isha that when Sa'd b. Abu Waqqas died she said: Bring it (the bier) into the mosque so that I offer prayer for him. But, this act of hers was disapproved. She said: By Allah, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) offered prayer in the mosque for the two sons of Baida', viz, for Suhail and his brother.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ جب حضر ت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ان کو مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی انکی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔ ان کی اس بات پر اعتراض کیا گیا تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی ( سہل ) رضوان اللہ عنھم اجمعین کا جنازہ مسجد میں ہی پڑھا تھا ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : سہیل بن دعد ، جو ابن بیضاء ہے ، اس کی ماں بیضاء تھیں ۔ ( بیضاء کا اصل نام دعد تھا ، سہیل کے والد کا نام وہب بن ربیعہ تھا ، اسے شرف صحبت حاصل نہ ہوا ۔ )