Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 96 · Chapter 3647

The book of wishes.

بَابُ قَوْلِهِ ﷺ: «لَيْتَ كَذَا وَكَذَا»

(3) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “If I had formerly known what I came to know lately...”

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ کاش ایسا اور ایسا ہوتا

1 hadith in this chapter

7231

Sahih Bukhari #7231

Sahih

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : أَرِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ، إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ السِّلَاحِ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ أَحْرُسُكَ ، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا غَطِيطَهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ ، قَالَ بِلَالٌ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

English

Narrated Aisha: One night the Prophet was unable to sleep and said, Would that a righteous man from my companions guarded me tonight. Suddenly we heard the clatter of arms, whereupon the Prophet said, Who is it? It was said, I am Sa`d, O Allah's Apostle! I have come to guard you. The Prophet then slept so soundly that we heard him snoring. Abu `Abdullah said: `Aisha said: Bilal said, Would that I but stayed overnight in a valley with Idhkhir and Jalil (two kinds of grass) around me (i.e., in Mecca). Then I told that to the Prophet .

اردو ترجمہ · Urdu

ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد میرے لیے آج رات پہرہ دیتا۔“ اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں یا رسول اللہ! ( انہوں نے کہا ) میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کے خراٹے کی آواز سنے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ جب نئے نئے مدینہ آئے تو بحالت بخار حیرانی میں یہ شعر پڑھتے تھے۔ ”کاش میں جانتا کہ میں ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا۔۔۔ ( وادی میں ) اور میرے چاروں طرف اذخر اور جیل گھاس ہو گی۔“ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی خبر کی۔