Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 66 · Chapter 2482

The book of commentary.

{يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا

(1) CHAPTER. “The Day when the Trumpet will be blown, and you shall come forth in crowds (groups after groups).” (V.78:18)

آیت ( ( یوم ینفخ فی الصور الایۃ ) ) کی تفسیر

1 hadith in this chapter

4935

Sahih Bukhari #4935

Sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ ، قَالَ : أَرْبَعُونَ يَوْمًا ، قَالَ : أَبَيْتُ ، قَالَ : أَرْبَعُونَ شَهْرًا ، قَالَ : أَبَيْتُ ، قَالَ : أَرْبَعُونَ سَنَةً ، قَالَ : أَبَيْتُ ، قَالَ : ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ ، لَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .

English

Narrated Al--A`mash: Abu Huraira said, Allah's Messenger said, 'Between the two sounds of the trumpet, there will be forty. Somebody asked Abu Huraira, Forty days? But he refused to reply. Then he asked, Forty months? He refused to reply. Then he asked, Forty years? Again, he refused to reply. Abu Huraira added. Then (after this period) Allah will send water from the sky and then the dead bodies will grow like vegetation grows, There is nothing of the human body that does not decay except one bone; that is the little bone at the end of the coccyx of which the human body will be recreated on the Day of Resurrection. (See Hadith No. 338)

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس فاصلہ ہو گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس دن مراد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں پھر شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس مہینے مراد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس سال مراد ہیں؟ کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا۔ جس کی وجہ سے تمام مردے جی اٹھیں گے جیسے سبزیاں پانی سے اگ آتی ہیں۔ اس وقت انسان کا ہر حصہ گل چکا ہو گا۔ سوا ریڑھ کی ہڈی کے اور اس سے قیامت کے دن تمام مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔