Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 66 · Chapter 2316

The book of commentary.

بَابُ قَوْلِهِ: {وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ، وَقَالَتْ: هَيْتَ لَكَ}

(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “And she, in whose house he was, sought to seduce him (to do an evil act). She closed the doors and said, 'Come on, O you.' He said: 'I seek refuge in Allah (or Allah forbid)'...” (V.12:23)

آیت ( ( وراودتہ التی ھو فی بیتھا....الایۃ ) ) کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

4692

Sahih Bukhari #4692

Sahih

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23 ، قَالَ : وَإِنَّمَا نَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْنَاهَا مَثْوَاهُ سورة يوسف آية 21 ، مُقَامُهُ وَأَلْفَيَا سورة يوسف آية 25 : وَجَدَا ، أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ سورة الصافات آية 69 : أَلْفَيْنَا ، وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ سورة الصافات آية 12 .

English

Narrated Abu Wail: `Abdullah bin Mas`ud recited Haita laka (Come you), and added, We recite it as we were taught it.

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے «هيت لك» پڑھا اور کہا کہ جس طرح ہمیں یہ لفظ سکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم پڑھتے ہیں۔ «مثواه‏» یعنی اس کا ٹھکانا، درجہ۔ «ألفيا‏» یعنی پایا اسی سے ہے۔ «ألفوا آباءهم‏» اور «ألفينا‏» ( دوسری آیتوں میں ) اور ابن مسعود سے ( سورۃ الصافات ) میں «بل عجبت ويسخرون‏» منقول ہے۔

4693

Sahih Bukhari #4693

Sahih

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِسْلَامِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ ، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ ، حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ ، قَالَ اللَّهُ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10 ، قَالَ اللَّهُ : إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 ، أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ ، وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ ؟ .

English

Narrated `Abdullah (bin Mas`ud): When the Prophet realized that the Quraish had delayed in embracing Islam, he said, O Allah! Protect me against their evil by afflicting them with seven (years of famine) like the seven years of (Prophet) Joseph. So they were struck with a year of famine that destroyed everything till they had to eat bones, and till a man would look towards the sky and see something like smoke between him and it. Allah said:-- Then watch you (O Muhammad) for the day when the sky will produce a kind of smoke plainly visible. (44.10) And Allah further said:-- Verily! We shall withdraw the punishment a little, Verily you will return (to disbelief). (44.15) (Will Allah relieve them from torture on the Day of Resurrection?) (The punishment of) the smoke had passed and Al-Baltsha (the destruction of the pagans in the Badr battle) had passed too.

اردو ترجمہ · Urdu

قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما۔ چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏» ”تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔“ اور فرمایا «إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون‏» ”بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی ( اپنی پہلی حالت پر ) لوٹ آؤ گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔