Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 66 · Chapter 2303

The book of commentary.

بَابُ قَوْلِهِ (لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ العُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ تَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوف

(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Allah has forgiven the Prophet ( ), the Muhajirun and the Ansar...' (V.9:117)

آیت ( ( لقد تاب اللہ علی النبی والمھا جرین ) ) کی تفسیر

1 hadith in this chapter

4676

Sahih Bukhari #4676

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح قَالَ أَحْمَدُ : وَحَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فِي حَدِيثِهِ ،وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا سورة التوبة آية 118 ، قَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي ، أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ .

English

Narrated `Abdullah bin Ka`b: I heard Ka`b bin Malik talking about the Verse:-- 'And to the three (He also forgave) who remained behind.' (9.118) saying in the last portion of his talk, (I said), 'As a part (sign) of my repentance, I would like to give up all my property in the cause of Allah and His Apostle,' The Prophet said to me, 'Keep some of your wealth as it is good for you. (To the three (He also forgave) who remained behind till for them the earth, vast as it is, was straitened (9.118)

اردو ترجمہ · Urdu

( ان کے والد ) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں یہی ان کو راستے میں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے ان کے واقعہ کے سلسلے میں سنا جس کے بارے میں آیت «وعلى الثلاثة الذين خلفوا‏» نازل ہوئی تھی۔ آپ نے آخر میں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) عرض کیا تھا کہ اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں خیرات کرتا ہوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اپنا کچھ تھوڑا مال اپنے پاس ہی رہنے دو۔ یہ تمہارے حق میں بھی بہتر ہے۔