Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 66 · Chapter 2297

The book of commentary.

بَابُ قَوْلِهِ {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ المُطَّوِّعِينَ مِنَ المُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ}

(11) CHAPTER. The Statement of Allah: “Those who defame such of the believers who give charity (in Allah's Cause) voluntarily... (V.9:79)

آیت ( ( الذین یلمزون المطوعین.... ) ) کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

4668

Sahih Bukhari #4668

Sahih

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ كُنَّا نَتَحَامَلُ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ : إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا ، وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ ، إِلَّا رِئَاءً ، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79 ، الْآيَةَ .

English

Narrated Abu Musud: When we were ordered to give alms, we began to work as porters (to earn something we could give in charity). Abu Uqail came with one half of a Sa (special measure for food grains) and another person brought more than he did. So the hypocrites said, Allah is not in need of the alms of this (i.e. 'Uqail); and this other person did not give alms but for showing off. Then Allah revealed:-- 'Those who criticize such of the Believers who give charity voluntarily and those who could not find to give in charity except what is available to them.' (9.79)

اردو ترجمہ · Urdu

جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے ( اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے ) چنانچہ ابوعقیل اسی مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی عبدالرحمٰن بن عوف اس سے زیادہ لائے۔ اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس ( یعنی عقیل ) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے ( عبدالرحمٰن بن عوف ) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم‏» کہ ”یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا۔“ آخر آیت تک۔

4669

Sahih Bukhari #4669

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ زَائِدَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ ، فَيَحْتَالُ أَحَدُنَا حَتَّى يَجِيءَ بِالْمُدِّ ، وَإِنَّ لِأَحَدِهِمُ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ ، كَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ .

English

Narrated Shaqiq: Abu Mas`ud Al-Ansari said, Allah's Messenger , used to order us to give alms. So one of us would exert himself to earn one Mud (special measure of wheat or dates, etc.,) to give in charity; while today one of us may have one hundred thousand. Shaqiq said: As if Abu Masud referred to himself.

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کی ترغیب دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ مزدوری کر کے لاتے اور ( بڑی مشکل سے ) ایک مد کا صدقہ کر سکتے لیکن آج انہیں میں بعض ایسے ہیں جن کے پاس لاکھوں درہم ہیں۔ غالباً ان کا اشارہ خود اپنی طرف تھا ( حماد نے کہا ہاں سچ ہے ) ۔