Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 64 · Chapter 2063

The merits of al-ansar.

بَابُ إِسْلاَمِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ ؓ

(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.

سعید بنزید بنعمرو بن نفیل رضیاللہعنہ کا اسلام قبول کرنا

3 hadiths in this chapter

3863

Sahih Bukhari #3863

Sahih

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ .

English

Narrated `Abdullah bin Mus'ud: We have been powerful since `Umar embraced Islam.

اردو ترجمہ · Urdu

عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد ہم لوگ ہمیشہ عزت سے رہے۔

3864

Sahih Bukhari #3864

Sahih

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : فَأَخْبَرَنِي جَدِّي زَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا هُوَ فِي الدَّارِ خَائِفًا إِذْ جَاءَهُ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ أَبُو عَمْرٍو عَلَيْهِ حُلَّةُ حِبَرَةٍ , وَقَمِيصٌ مَكْفُوفٌ بِحَرِيرٍ وَهُوَ مِنْ بَنِي سَهْمٍ وَهُمْ حُلَفَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ لَهُ : مَا بَالُكَ ؟ قَالَ : زَعَمَ قَوْمُكَ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُونِي إِنْ أَسْلَمْتُ ، قَالَ : لَا سَبِيلَ إِلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَمِنْتُ فَخَرَجَ الْعَاصِ فَلَقِيَ النَّاسَ قَدْ سَالَ بِهِمْ الْوَادِي ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُونَ ؟ فَقَالُوا : نُرِيدُ هَذَا ابْنَ الْخَطَّابِ الَّذِي صَبَا ، قَالَ : لَا سَبِيلَ إِلَيْهِ , فَكَرَّ النَّاسُ .

English

Narrated `Abdullah bin `Umar: While `Umar was at home in a state of fear, there came Al-`As bin Wail As-Sahmi Abu `Amr, wearing an embroidered cloak and a shirt having silk hems. He was from the tribe of Bani Sahm who were our allies during the pre-Islamic period of ignorance. Al-`As said to `Umar What is wrong with you? He said, Your people claim that they would kill me if I become a Muslim. Al-`As said, Nobody will harm you after I have given protection to you. So Al-`As went out and met the people streaming in the whole valley. He said, Where are you going? They said, We want Ibn Al-Khattab who has embraced Islam. Al-`As said, There is no way for anybody to touch him. So the people retreated.

اردو ترجمہ · Urdu

عمر رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے کے بعد قریش سے ) ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ عاص نے کہا ”تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“ جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہو گیا ہے۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے۔

3865

Sahih Bukhari #3865

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : سَمِعْتُهُ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ ، وَقَالُوا : صَبَا عُمَرُ وَأَنَا غُلَامٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي , فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ ، فَقَالَ : قَدْ صَبَا عُمَرُ فَمَا ذَاكَ فَأَنَا لَهُ جَارٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا عَنْهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ .

English

Narrated `Abdullah bin `Umar: When `Umar embraced Islam, all The (disbelieving) people gathered around his home and said, `Umar has embraced Islam. At that time I was still a boy and was on the roof of my house. There came a man wearing a cloak of Dibaj (i.e. a kind of silk), and said, `Umar has embraced Islam. Nobody can harm him for I am his protector. I then saw the people going away from `Umar and asked who the man was, and they said, Al-`As bin Wail.

اردو ترجمہ · Urdu

جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیسا ہے؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں۔