Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 64 · Chapter 2050

The merits of al-ansar.

بَابُ ذِكْرِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ ؓ

(21) CHAPTER. The narration about Jarir bin Abdullah Al-Bajali.

جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا بیان

2 hadiths in this chapter

3822

Sahih Bukhari #3822

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ .

English

Narrated Jarir bin 'Abdullah: Allah's Apostle has never refused to admit me since I embraced Islam, and whenever he saw me, he would smile.

اردو ترجمہ · Urdu

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( گھر کے اندر آنے سے ) نہیں روکا ( جب بھی میں نے اجازت چاہی ) اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکراتے۔

3823

Sahih Bukhari #3823

Sahih

وَعَنْ قَيْسٍ عن جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ ، يُقَالُ لَهُ : ذُو الْخَلَصَةِ وَكَانَ ، يُقَالُ لَهُ : الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ أَوْ الْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟ ، قَالَ : فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ ، قَالَ : فَكَسَرْنَا وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ , فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ , فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ .

English

Jarir bin 'Abdullah narrated: There was a house called Dhul-Khalasa in the Pre-lslamic Period and it was also called Al-Ka'ba Al-Yamaniya or Al-Ka'ba Ash-Shamiya. Allah's Apostle said to me, Will you relieve me from Dhul-Khalasa? So I left for it with 150 cavalrymen from the tribe of Ahmas and then we destroyed it and killed whoever we found there. Then we came to the Prophet and informed him about it. He invoked good upon us and upon the tribe of Ahmas.

اردو ترجمہ · Urdu

زمانہ جاہلیت میں ”ذوالخلصہ“ نامی ایک بت کدہ تھا اسے «الكعبة اليمانية» یا «الكعبة الشأمية» بھی کہتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”ذی الخلصہ کے وجود سے میں جس اذیت میں مبتلا ہوں، کیا تم مجھے اس سے نجات دلا سکتے ہو؟“ انہوں نے بیان کیا کہ پھر قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو میں لے کر چلا، انہوں نے بیان کیا اور ہم نے بت کدے کو ڈھا دیا اور اس میں جو تھے ان کو قتل کر دیا، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ نے ہمارے لیے اور قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔