Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 61 · Chapter 1944

The book of the stories of the prophets.

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاذْكُرْ فِي الكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الوَعْدِ } [مريم: 54]

(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Qur'an) Ismail (Ishmael) : Verily! He was true to what he promised...” (V.19:54)

( حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور یاد کرو اسماعیل کو کتاب میں بیشک وہ وعدے کے سچے تھے ۔ “

1 hadith in this chapter

3373

Sahih Bukhari #3373

Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ ، قَالَ : فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ ، قَالَ : ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ .

English

Narrated Salama bin Al-Akwa`: The Prophet passed by some persons of the tribe of Aslam practicing archery (i.e. the throwing of arrows) Allah's Apostle said, O offspring of Ishmael! Practice archery (i.e. arrow throwing) as your father was a great archer (i.e. arrow-thrower). I am with (on the side of) the son of so-and-so-. Hearing that, one of the two teams stopped throwing. Allah's Apostle asked them, ' Why are you not throwing? They replied, O Allah's Apostle! How shall we throw when you are with the opposite team? He said, Throw, for I am with you all.

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کی ایک جماعت سے گزرے جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کئے جاؤ کیونکہ تمہارے بزرگ دادا بھی تیرانداز تھے اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔“ راوی نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی دوسرے فریق نے تیر اندازی بند کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا بات ہوئی ‘ تم لوگ تیر کیوں نہیں چلاتے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ فریق مقابل کے ساتھ ہو گئے تو اب ہم کس طرح تیر چلا سکتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مقابلہ جاری رکھو ‘ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔“