Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 42 · Chapter 1427

The book of cultivation and agriculture.

بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ

(18) CHAPTER. The companions of the Prophet used to share the yields and fruits of their farms with each other gratis.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کھیتی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کس طرح کرتے تھے

7 hadiths in this chapter

2339

Sahih Bukhari #2339

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ ظُهَيْرٌ : لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا ، قُلْتُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ ، قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ؟ قُلْتُ : نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ ، وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ ، قَالَ : لَا تَفْعَلُوا ، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا . قَالَ رَافِعٌ : قُلْتُ : سَمْعًا وَطَاعَةً .

English

Narrated Rafi` bin Khadij: My uncle Zuhair said, Allah's Apostle forbade us to do a thing which was a source of help to us. I said, Whatever Allah's Apostle said was right. He said, Allah's Apostle sent for me and asked, 'What are you doing with your farms?' I replied, 'We give our farms on rent on the basis that we get the yield produced at the banks of the water streams (rivers) for the rent, or rent it for some Wasqs of barley and dates.' Allah's Apostle said, 'Do not do so, but cultivate (the land) yourselves or let it be cultivated by others gratis, or keep it uncultivated.' I said, 'We hear and obey.'

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا ( بظاہر ذاتی ) فائدہ تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے۔ ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو ( بونے کے لیے ) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں۔ اسی طرح کھجور اور جَو کے چند وسق پر۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ۔ ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ) میں نے سنا اور مان لیا۔

2340

Sahih Bukhari #2340

Sahih

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانُوا يَزْرَعُونَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ .

English

Narrated Jabir: The people used to rent their land for cultivation for one-third, one-fourth or half its yield. The Prophet said, Whoever has land should cultivate it himself or give it to his (Muslim) brother gratis; otherwise keep it uncultivated.

اردو ترجمہ · Urdu

صحابہ تہائی، چوتھائی یا نصف پر بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو تو اسے خود بوئے ورنہ دوسروں کو بخش دے۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتا تو اسے یوں ہی خالی چھوڑ دے۔

2341

Sahih Bukhari #2341

Sahih

وَقَالَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ .

English

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Whoever has land should cultivate it himself or give it to his (Muslim) brother gratis; otherwise he should keep it uncultivated.

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس کے پاس زمین ہو تو وہ خود بوئے ورنہ اپنے کسی ( مسلمان ) بھائی کو بخش دے، اور اگر یہ نہیں کر سکتا تو اسے یوں ہی خالی چھوڑ دے۔

2342

Sahih Bukhari #2342

Sahih

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : ذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ ، فَقَالَ : يُزْرِعُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ ، وَلَكِنْ قَالَ : أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا مَعْلُومًا .

English

Narrated `Amr: When I mentioned it (i.e. the narration of Rafi` 'bin Khadij: no. 532) to Tawus, he said, It is permissible to rent the land for cultivation, for Ibn `Abbas said, 'The Prophet did not forbid that, but said: One had better give the land to one's brother gratis rather than charge a certain amount for it.'

اردو ترجمہ · Urdu

تو انہوں نے کہا کہ ( بٹائی وغیرہ پر ) کاشت کرا سکتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اپنے کسی بھائی کو زمین بخشش کے طور پر دے دینا اس سے بہتر ہے کہ اس پر کوئی محصول لے۔ ( یہ اس صورت میں کہ زمیندار کے پاس فالتو زمین بیکار پڑی ہو ) ۔

2343

Sahih Bukhari #2343

Sahih

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ .

English

Narrated Nafi`: Ibn `Umar used to rent his farms in the time of Abu Bakr, `Umar, `Uthman, and in the early days of Muawiya.

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کھیتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہد خلافت میں کرایہ پر دیتے تھے۔

2344

Sahih Bukhari #2344

Sahih

ثُمَّ حُدِّثَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى كِرَاءِ الْمَزَارِعِ . فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَبِشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ .

English

Then he was told the narration of Rafi` 'bin Khadij that the Prophet had forbidden the renting of farms. Ibn `Umar went to Rafi` and I accompanied him. He asked Rafi` who replied that the Prophet had forbidden the renting of farms. Ibn `Umar said, You know that we used to rent our farms in the lifetime of Allah's Apostle for the yield of the banks of the water streams (rivers) and for certain amount of figs.

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ ( یہ سن کر ) ابن عمر رضی اللہ عنہما رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدل جو نالیوں پر ہو اور تھوڑی گھاس کے بدل دیا کرتے تھے۔

2345

Sahih Bukhari #2345

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى ، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ .

English

Narrated Salim: `Abdullah bin `Umar said, I knew that the land was rented for cultivation in the lifetime of Allah's Apostle . Later on Ibn `Umar was afraid that the Prophet had forbidden it, and he had no knowledge of it, so he gave up renting his land.

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مجھے معلوم تھا کہ زمین کو بٹائی پر دیا جاتا تھا۔ پھر انہیں ڈر ہوا کہ ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کوئی نئی ہدایت فرمائی ہو جس کا علم انہیں نہ ہوا ہو۔ چنانچہ انہوں نے ( احتیاطاً ) زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔