Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 38 · Chapter 1387

The book of hiring.

بَابُ إِذَا اسْتَأْجَرَ أَرْضًا، فَمَاتَ أَحَدُهُمَا

(22) CHAPTER. If somebody rents land and he or the owner of the land dies (will the contract be cancelled)?

اگر کوئی زمین کو ٹھیکہ پر لے پھر ٹھیکہ دینے والا یا لینے والا مرجائے

2 hadiths in this chapter

2285

Sahih Bukhari #2285

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ ، أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا ، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْمَزَارِعَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ نَافِعٌ لَا أَحْفَظُهُ ،

English

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle gave the land of Khaibar to the Jews to work on and cultivate and take half of its yield. Ibn `Umar added, The land used to be rented for a certain portion (of its yield). Nafi` mentioned the amount of the portion but I forgot it.

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہودیوں کو ) خیبر کی زمین دے دی تھی کہ اس میں محنت کے ساتھ کاشت کریں اور پیداوار کا آدھا حصہ خود لے لیا کریں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے یہ بیان کیا کہ زمین کچھ کرایہ پر دی جاتی تھی۔ نافع نے اس کرایہ کی تعیین بھی کر دی تھی لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا۔

2286

Sahih Bukhari #2286

Sahih

وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ .

English

Rafi` bin Khadij said, The Prophet forbade renting farms. Narrated 'Ubaidullah Nafi` said: Ibn `Umar said: (The contract of Khaibar continued) till `Umar evacuated the Jews (from Khaibar).

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے بیان کیا، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ( خیبر کے یہودیوں کے ساتھ وہاں کی زمین کا معاملہ برابر چلتا رہا ) یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔