Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 35 · Chapter 1333

The book of sales (bargains).

بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، أَوْ أَرْضًا مَزْرُوعَةً أَوْ بِإِجَارَةٍ

(90) CHAPTER. Whoever sold or rented date-palms which were pollinated, or land which was sown (with wheat or barley).

جس نے پیوند لگائی ہوتی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہوگا

2 hadiths in this chapter

2203

Sahih Bukhari #2203

Sahih

قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَيُّمَا نَخْلٍ بِيعَتْ قَدْ أُبِّرَتْ لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ ، فَالثَّمَرُ لِلَّذِي أَبَّرَهَا ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالْحَرْثُ سَمَّى لَهُ نَافِعٌ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَ .

English

Narrated Nafi', the freed slave of Ibn 'Umar: If pollinated date-palms are sold and nothing is mentioned (in the contract) about their fruits, the fruits will go to the person who has pollinated them, and so will be the case with the slave and the cultivator. Nafi' mentioned those three things.

اردو ترجمہ · Urdu

جو بھی کھجور کا درخت پیوند لگانے کے بعد بیجا جائے اور بیچتے وقت پھلوں کا کوئی ذکر نہ ہوا ہو تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند لگایا ہے۔ غلام اور کھیت کا بھی یہی حال ہے۔ نافع نے ان تینوں چیزوں کا نام لیا تھا۔

2204

Sahih Bukhari #2204

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ .

English

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, If somebody sells pollinated date palms, the fruits will be for the seller unless the buyer stipulates that they will be for himself (and the seller agrees).

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جا چکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔ ( کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آ جائیں گے ) ۔