Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 24 · Chapter 847

The book of al-janaiz (funerals).

بَابٌ: هَلْ يُخْرَجُ المَيِّتُ مِنَ القَبْرِ وَاللَّحْدِ لِعِلَّةٍ

(77) CHAPTER. Can the dead body be taken out of its grave and Lahd for some reason?

باب کہ میت کو کسی خاص وجہ سے قبر یا لحد سے باہر نکالا جا سکتا ہے ؟

3 hadiths in this chapter

1350

Sahih Bukhari #1350

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا ، قَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ أَبُو هَارُونَ : وَكَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَانِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلْبِسْ أَبِي قَمِيصَكَ الَّذِي يَلِي جِلْدَكَ ؟ قَالَ سُفْيَانُ : فَيُرَوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَ عَبْدَ اللَّهِ قَمِيصَهُ مُكَافَأَةً لِمَا صَنَعَ .

English

Narrated Jabir bin `Abdullah: Allah's Apostle came to `Abdullah bin Ubai (a hypocrite) after his death and he has been laid in his pit (grave). He ordered (that he be taken out of the grave) and he was taken out. Then he placed him on his knees and threw some of his saliva on him and clothed him in his (the Prophet's) own shirt. Allah knows better (why he did so). `Abdullah bin Ubai had given his shirt to Al-Abbas to wear. Abu Harun said, Allah's Apostle at that time had two shirts and the son of `Abdullah bin Ubai said to him, 'O Allah's Apostle! Clothe my father in your shirt which has been in contact with your skin.' ' Sufyan added, Thus people think that the Prophet clothed `Abdullah bin Tubal in his shirt in lieu of what he (Abdullah) had done (for Al `Abbas, the Prophet's uncle.)

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی ( منافق ) کو اس کی قبر میں ڈالا جا چکا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اسے قبر سے نکال لیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھ کر لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنا کرتہ اسے پہنایا۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ( غالباً مرنے کے بعد ایک منافق کے ساتھ اس احسان کی وجہ یہ تھی کہ ) انہوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایک قمیص پہنائی تھی ( غزوہ بدر میں جب عباس رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے قیدی بن کر آئے تھے ) سفیان نے بیان کیا کہ ابوہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال میں دو کرتے تھے۔ عبداللہ کے لڑکے ( جو مومن مخلص تھے رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے والد کو آپ وہ قمیص پہنا دیجئیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے قریب رہتی ہے۔ سفیان نے کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کرتہ اس کے کرتے کے بدل پہنا دیا جو اس نے عباس رضی اللہ عنہ کو پہنایا تھا۔

1351

Sahih Bukhari #1351

Sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَ : مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ , وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا , فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ , وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ ، ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ الْآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ ، فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ .

English

Narrated Jabir: When the time of the Battle of Uhud approached, my father called me at night and said, I think that I will be the first amongst the companions of the Prophet to be martyred. I do not leave anyone after me dearer to me than you, except Allah's Apostle's soul and I owe some debt and you should repay it and treat your sisters favorably (nicely and politely). So in the morning he was the first to be martyred and was buried along with another (martyr). I did not like to leave him with the other (martyr) so I took him out of the grave after six months of his burial and he was in the same condition as he was on the day of burial, except a slight change near his ear.

اردو ترجمہ · Urdu

جب جنگ احد کا وقت قریب آ گیا تو مجھے میرے باپ عبداللہ نے رات کو بلا کر کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا اور دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسرا کوئی مجھے ( اپنے عزیزوں اور وارثوں میں ) تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے ‘ میں مقروض ہوں اس لیے تم میرا قرض ادا کر دینا اور اپنی ( نو ) بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے میرے والد ہی شہید ہوئے۔ قبر میں آپ کے ساتھ میں نے ایک دوسرے شخص کو بھی دفن کیا تھا۔ پر میرا دل نہیں مانا کہ انہیں دوسرے صاحب کے ساتھ یوں ہی قبر میں رہنے دوں۔ چنانچہ چھ مہینے کے بعد میں نے ان کی لاش کو قبر سے نکالا دیکھا تو صرف کان تھوڑا سا گلنے کے سوا باقی سارا جسم اسی طرح تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔

1352

Sahih Bukhari #1352

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ ، فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ ، فَجَعَلْتُهُ فِي قَبْرٍ عَلَى حِدَةٍ .

English

Narrated Jabir: A man was buried along with my father and I did not like it till I took him (i.e. my father) out and buried him in a separate grave.

اردو ترجمہ · Urdu

میرے باپ کے ساتھ ایک ہی قبر میں ایک اور صحابی ( جابر رضی اللہ عنہ کے چچا ) دفن تھے۔ لیکن میرا دل اس پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے ان کی لاش نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دی۔