Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 24 · Chapter 786

The book of al-janaiz (funerals).

بَابٌ: كَيْفَ الإِشْعَارُ لِلْمَيِّتِ؟

(15) CHAPTER. How to shroud a dead body.

میت پر کپڑا کیونکر لپیٹنا چا ہیے

1 hadith in this chapter

1261

Sahih Bukhari #1261

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ , قَال : سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ : جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنَ اللَّاتِي بَايَعْنَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ ، فَحَدَّثَتْنَا , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي , قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ ، وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ الْفُفْنَهَا فِيهِ ، وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ وَلَا تُؤْزَرَ .

English

Narrated Ibn Seereen: Um 'Atiyya (an Ansari woman who gave the pledge of allegiance to the Prophet ) came to Basra to visit her son, but she could not find him. She narrated to us, The Prophet came to us while we were giving bath to his (dead) daughter, he said: 'Wash her three times, five times or more, if you think it necessary, with water and Sidr, and last of all put camphor, and when you finish, notify me.' Um 'Atiyya added, After finishing, we informed him and he gave us his waist sheet and told us to shroud her in it and did not say more than that.

اردو ترجمہ · Urdu

ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، ایک عورت آئی، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی۔ لیکن وہ نہ ملا۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کر لینا۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں ( تو اطلاع دی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار عنایت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں ( یہ ایوب نے کہا ) اور انہوں نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔