Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 26 · Chapter 315

قربانیوں کے مسائل کی کتاب

ان قربانیوں کا بیان جو مستحب ہیں

1 hadith in this chapter

1064

Muwatta Imam Malik #1064

Sahih

[1064] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ضَحَّی مَرَّۃً بِالْمَدِینَۃِ۔ قَالَ نَافِعٌ : فَأَمَرَنِی أَنْ أَشْتَرِیَ لَہُ کَبْشاً فَحِیلاً أَقْرَنَ، ثُمَّ أَذْبَحَہُ یَوْمَ الأَضْحَی فِی مُصَلَّی النَّاسِ۔ قَالَ نَافِعٌ : فَفَعَلْتُ، ثُمَّ حُمِلَ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَحَلَقَ رَأْسَہُ حِینَ ذُبِحَ الْکَبْشُ، وَکَانَ مَرِیضاً لَمْ یَشْہَدِ الْعِیدَ مَعَ النَّاسِ۔ قَالَ نَافِعٌ : وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَقُولُ : لَیْسَ حِلاَقُ الرَّأْسِ بِوَاجِبٍ عَلَی مَنْ ضَحَّی۔ وَقَدْ فَعَلَہُ ابْنُ عُمَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار مدینہ میں قربانی کی ، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مینڈھا خرید کر لاؤں جو نر ہو ( خصی نہ ہو اور ) سینگوں والا ہو ، پھر میں اُسے لوگوں کی عیدگاہ میں عیدالاضحی کے دن ذبح کروں ، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا پھر اس مینڈھے کو اٹھا کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا ، چنانچہ جب مینڈھا ذبح کر دیا گیا تو انھوں نے اپنا سر مونڈ لیا ، اس وقت وہ بیمار تھے ( اور ) مسلمانوں کے ہمراہ نماز عید کے لیے بھی حاضر نہ ہو سکے تھے ، نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص نے قربانی کی اس پر سر منڈانا واجب نہیں ، ( اور ) خود حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کام ( استحباباً ) کیا تھا ۔