Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 9 · Chapter 621

اہل شام کی روایات

حضرت کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضِی اللہ عنہ کی حدیثیں

10 hadiths in this chapter

18059

Musnad Ahmad #18059

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَوْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: شُعْبَةُ، قَالَ: قَدْ حَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورٌ، وَذَكَرَ ثَلَاثَةً بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ مُرَّةَ، أَوْ عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَتَكُونَ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ. وَإِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ، وَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ، وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ. قَالَ شُعْبَةُ: وَلَمْ يَذْكُرْ مَسْحَ الرَّأْسِ. وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ , يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَائِهِ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوَيْنِ مِنْ أَعْضَائِهِمَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، كَانَتْ فِكَاكَهَا مِنَ النَّارِ، تُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَائِهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ رات کے کس حصے میں کی جانے والی دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں۔ پھر فرمایا نماز قبول ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ تم فجر کی نماز پڑھ لو، پھر طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ایک دو نیزے کے برابر آجائے، پھر نماز قبول ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ سورج کا سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے، اس کے بعد زوال تک کوئی نماز نہیں ہے، پھر نماز قبول ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، پھر غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ اور جب کوئی شخص وضو کرتا ہے اور ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جب بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ راوی نے مسح سر کا ذکر نہیں کیا۔ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو آزاد کردیا جاتا ہے اور جو شخص دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرتا ہے، وہ دونوں جہنم سے اس کی رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور ان کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے اور جو عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور باندی کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے۔

18060

Musnad Ahmad #18060

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَامَ خُطَبَاءُ بِإِيلِيَاءَ، فَقَامَ مِنْ آخِرِهِمْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِتْنَةً، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَقَرَّبَهَا، شَكَّ إِسْمَاعِيلُ فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، فَقَالَ: " هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ". فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ، وَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ایلیاء میں کئی خطباء کھڑے ہوگئے، ان کے آخر میں مرہ بن کعب نامی ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو کبھی کھڑا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا: اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے، میں اس کے پیچھے چلا گیا، اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کر کے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔

18061

Musnad Ahmad #18061

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ أَبُوكَ وَاحْذَرْ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْ عِظَامِهِمَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، كَانَتْ فِكَاكَهَا مِنَ النَّارِ تُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو آزاد کردیا جاتا ہے اور جو شخص دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرتا ہے، وہ دونوں جہنم سے اس کی رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور ان کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے اور جو عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور باندی کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ مضر کے خلاف بددعا فرمائی، میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی، آپ کو عطاء فرمایا: آپ کی دعاء قبول فرمائی، آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، ان کے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرلیا، میں نے پھر اپنی بات دہرائی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! ہمیں خوب برسنے والی بارش سے سیراب فرمایا جو زمین کو پانی سے بھر دے، خوب برسنے والی ہو، دیر سے نہ برسے، نفع بخش ہو، زخمت نہ بنے، اس دعاء کے بعد نماز جمعہ نہیں ہونے پائی تھی کہ بارش شروع ہوگئی۔

18062

Musnad Ahmad #18062

Zaeef

قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُضَرَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ. فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيعًا طَبَقًا غَدَقًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ" فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةً أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى مُطِرُوا . قَالَ شُعْبَةُ: فِي الدُّعَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَالِمٍ فِي الِاسْتِسْقَاءِ , وَفِي حَدِيث حَبِيبٍ، أَوْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَخْطِرُ لَهُمْ فَحْلٌ، وَلَا يُتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث سے مروی ۔۔۔ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی، آپ کو عطاء فرمایا : آپ کی دعاء قبول فرمائی، آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، ان کے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منہ پھیرلیا، میں نے پھر اپنی بات دہرائی، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ ! ہمیں خوب برسنے والی بارش سے سیراب فرمایا جو زمین کو پانی سے بھر دے، خوب برسنے والی ہو، دیر سے نہ برسے، نفع بخش ہو، زخمت نہ بنے، اس دعاء کے بعد نماز جمعہ نہیں ہونے پائی تھی کہ بارش شروع ہوگئی۔

18063

Musnad Ahmad #18063

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، قَالَ: قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ : يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ارْمُوا أَهْلَ صِنْعٍ، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ، رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً". قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي النَّحَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الدَّرَجَةُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ، وَلَكِنَّهَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِئَةُ عَامٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

شرحبیل بن سمط رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے کعب بن مروہ! ہمیں احتیاط سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے اہل صنع! تیر اندازی کیا کرو، جس شخص کا تیر دشمن کو لگ جائے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے، عبدالرحمن بن ابی النحام نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم درجہ سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ کے گھر کی چوکھٹ جتنا چھوٹا درجہ مراد نہیں ہے، جنت کے دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہوگا۔

18064

Musnad Ahmad #18064

Sahih

قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ. قَالَ: قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمًا مِنْهُ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

انہوں نے پھر عرض کیا کہ اے کعب بن مرہ! ہمیں احتیاط سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو آزاد کردیا جاتا ہے اور جو شخص دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرتا ہے، وہ دونوں جہنم سے اس کی رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور ان کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرانے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے۔ اور شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو، اس کے بالوں کی وہ سفیدی قیامت کے دن روشنی کا سبب ہوگی۔

18065

Musnad Ahmad #18065

Sahih

قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: قَالَ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

شرحبیل رحمہ اللہ نے کہا اے کعب بن مر! ہمیں احتیاط سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر چلاتا ہے، تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے ایک غلام کو آزاد کردیا۔

18066

Musnad Ahmad #18066

Zaeef

وَقَالَ: وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، أَلِمُضَرَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَنْصَرْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَنَصَرَكَ، وَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَجَابَكَ. قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيعًا مَرِيئًا، طَبَقًا غَدَقًا، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ". قَالَ: فَأُحْيُوا. قَالَ: فَمَا لَبِثُوا أَنْ أَتَوْهُ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ كَثْرَةَ الْمَطَرِ، فَقَالُوا: قَدْ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ. قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ يَمِينًا وَشِمَالًا .

اردو ترجمہ · Urdu

اور ایک آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ قبیلہ مضر کے لئے اللہ سے بارش کی دعاء کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بڑے جری ہو، کیا مضر والوں کے لئے دعا کروں؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی، آپ کو عطاء فرمایا: آپ کی دعاء قبول فرمائی، (آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، ان کے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے اللہ! ہمیں خوب برسنے والی بارش سے سیراب فرما جو زمین کو پانی سے بھر دے، خوب برسنے والی ہو، دیر سے نہ برسے، نفع بخش ہو، زحمت نہ بنے، اس دعاء کے بعد نماز جمعہ نہیں ہونے پائی تھی، کہ بارش شروع ہوگئی، کچھ عرصے بعد وہ لوگ بارش کی کثرت کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ گھر منہدم ہوگئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے اور فرمایا اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا، ہمارے اوپر نہ برسا، چنانچہ بادل دائیں بائیں بکھر گئے۔

18067

Musnad Ahmad #18067

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَامَ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ ، فَقَالَ: لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْلَسَ النَّاسَ، فَقَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مُرَجِّلًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ أَوْ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْ، هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنْ اتَّبَعَهُ عَلَى الْهُدَى" . قَالَ: فَقَامَ ابْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ایلیاء میں کئی خطباء کھڑے ہوگئے، ان کے آخر میں مرہ بن کعب نامی ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو کبھی کھڑا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا: اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے، میں اس کے پیچھے چلا گیا، اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کر کے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔

18068

Musnad Ahmad #18068

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي البُرْسَانِيَّ ، أَخْبَرَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، قَالَ: قَامَتْ خُطَبَاءُ بِإِيلِيَاءَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَتَكَلَّمُوا، وَكَانَ آخِرَ مَنْ تَكَلَّمَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ ، فَقَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِتْنَةً، فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنَّعٌ. فَقَالَ: " هَذَا يَوْمَئِذٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى الْحَقِّ وَالْهُدَى". فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" هَذَا". فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ایلیاء میں کئی خطباء کھڑے ہوگئے، ان کے آخر میں مرہ بن کعب نامی ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو کبھی کھڑا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا: اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے، میں اس کے پیچھے چلا گیا، اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کر کے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔