Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 9 · Chapter 612

اہل شام کی روایات

حضرت عبداللہ بن ہشام رضِی اللہ عنہ کی حدیثیں

2 hadiths in this chapter

18046

Musnad Ahmad #18046

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ التَّيْمِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ صَغِيرٌ" فَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَدَعَا لَهُ، وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ زینب بنت حمید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اسے بیعت کرلیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی یہ بچہ ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں دعائیں دیں، وہ اپنے تمام اہل خانہ کی طرف سے صرف ایک بکری قربانی میں پیش کرتے تھے۔

18047

Musnad Ahmad #18047

Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا نَفْسِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ". فَقَالَ عُمَرُ: فَلَأَنْتَ الْآنَ وَاللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ يَا عُمَرُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بخدا! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! اب بات بنی۔