Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 9 · Chapter 574

اہل شام کی روایات

حضرت مخنف بن سلیم رضِی اللہ عنہ کی حدیث

1 hadith in this chapter

17889

Musnad Ahmad #17889

Hasan

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي رَمْلَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ أَوْ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً. قَالَ: تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟" قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا. قَالَ:" هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور فرما رہے تھے اے لوگو! ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے، راوی نے پوچھا جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے؟ ابن عون کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کیا جواب دیا، بہرحال! انہوں نے خود ہی فرمایا یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ: ابتداء میں زمانہ جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی، اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا تھا، بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدا الاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔