Musnad Ahmad #17856
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ عَبْد اللَّهِ، وَسَمِعْتُهُ مِنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ ، وَلَهُ صُحْبَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ: قَدِمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ، وَأَمَرَ بِنَا، فنَزَِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ. قَالَ: فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا، شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ قَالَ: عَلَى عَصًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا، وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا" ..
اردو ترجمہ · Urdu
شعیب بن رزیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن کا نام حکم بن حزن کلفی تھا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کی سعادت حاصل تھی، انہوں نے ایک حدیث بیان کی کہ میں سات یا نو آدمیوں کے ساتھ، جن میں ساتو اں یا نواں میں خود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی، ہم نے اندر داخل ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی خدمت میں آپ سے اپنے لئے دعاء خیر کرانے کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے دعاء خیر فرمائی اور ہمارے متعلق حکم دیا تو ہمیں ایک جگہ لے جا کر ٹھہرا دیا گیا اور ہمارے لئے کچھ کھجوروں کا حکم دیا، اس وقت حالات بہت خراب تھے۔ ہم چند دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ہی رہے، اس دوران ہمیں جمعہ کا دن بھی نصیب ہوا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمان یا لاٹھی سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات بہت ہلکے پھلکے اور بڑے پاکیزہ تھے، پھر فرمایا لوگو! تم تمام احکام پر ہرگز عمل نہیں کرسکتے، نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے، البتہ سیدھے راستے پر رہو اور خوشخبری قبول کرو۔