Musnad Ahmad #17798
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ فقال له النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا عَامِرٍ، أَلَا غَيَّرْتَ؟!" فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَيْنَ ذَهَبْتُمْ! إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اوطاس میں ان کا ایک آدمی مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عامر! تمہیں غیرت نہ آئی، ابو عامر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر سنادی اے ایمان والو! اپنے نفس کا خیال رکھنا اپنے اوپر لازم کرلو، اگر تم ہدایت پر ہوئے تو کسی کے بھٹکنے سے تمہیں نقصان نہیں ہوگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے اور فرمایا تم کہاں جا رہے ہو؟ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ اے اہل ایمان! اگر تم ہدایت پر ہوئے تو گمراہ کافر نہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔