Musnad Ahmad #17784
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِنَبَةَ ، قَالَ سُرَيْجٌ: وَلَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا"، عَسَلَهُ، قِيلَ: وَمَا عَسَلُهُ؟ قَالَ:" يَفْتَحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابو عنبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے عسل کردیتا ہے کسی نے پوچھا کہ عسل سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ مرنے سے پہلے اس کے لئے عمل صالح کے دروازے کھول دیتا ہے، پھر اس پر اس کی روح قبض کرلیتا ہے۔