Musnad Ahmad #17660
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي". قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ:" عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عبدالرحمن بن قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، پھر ان کی پشت سے ان کی اولاد اور ساری مخلوق کو نکال کر فرمایا یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، کسی شخص نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مواقع تقدیر کی بنیاد پر۔