Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 9 · Chapter 509

اہل شام کی روایات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک کی حدیث

1 hadith in this chapter

17533

Musnad Ahmad #17533

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ، ثُمَّ قَالَ عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ تَمِيمٍ، عن هَذَا الْأَمْرِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُزَيْنَةَ، فَقَالَ: " مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ". وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا: أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ نَعَمُ قَوْمِي". وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ:" لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ایک مرتبہ عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کی موجودگی میں کسی شخص نے بنو تمیم کے ایک آدمی کی بےعزتی کی تو عکرمہ نے اسے مارنے کے لئے مٹھی میں بھر کر کنکریاں اٹھا لیں، پھر کہنے لگے کہ مجھ سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو تمیم کا ذکر ہونے لگا، تو ایک آدمی کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے ایمان قبول کرنے میں بڑی سستی کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ان کی نسبت تو ان سے زیادہ کسی قوم نے تاخیر نہیں کی، اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں بڑی تاخیر کردی ہے، کچھ ہی عرصے بعد بنو تمیم کے سرخ و سیاہ جانور آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میری قوم کے جانور ہیں، اس طرھ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بنو تمیم کے حوالے سے نامناسب جملے کہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنو تمیم کا ہمیشہ اچھے انداز میں ہی تذکرہ کیا کرو، کیونکہ دجال کے خلاف سب سے زیادہ لمبے نیزے ان ہی کے ہوں گے۔