Musnad Ahmad #17530
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهِلٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عن رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، فَقُلْنَا: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهُورِ، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِيهِ سَاعَةً، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ، فَأَبَى، وَقَالَ: " هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ وَطَلِيقُ رَسُولِهِ" . وَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ فَأَسْلَمَ.
اردو ترجمہ · Urdu
ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے، ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے درخواست کی کہ ابو بکرہ کو ہمارے حوالے کردیں؟ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا۔