Musnad Ahmad #17521
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ وَكَانَ مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ قَالَ: أَصَابَتْنَا سَنَةٌ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا، فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَكْتُهُ، وَأَكَلْتُ مِنْهُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ، فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا، أَوْ جَائِعًا". فَرَدَّ عَلَيَّ الثَّوْبَ، وَأَمَرَ لِي بِنِصْفِ وَسْقٍ أَوْ وَسْقٍ .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو غبر سے تھا کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم قحط سالی میں مبتلا ہوگئے اسی دوران میں مدینہ منورہ آیا، وہاں کسی باغ میں داخل ہوا، ایک خوشہ پکڑا اور اسے چھیل چھیل کر کھانے لگا، پھر تھوڑا سا اپنے کپڑوں میں بھی باندھ لیا، اتفاقا باغ کا مالک بھی آگیا، اس نے مجھے دیکھ کر مارنا شروع کردیا اور میرے کپڑے بھی چھین لئے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب وہ ناواقف تھا تو تم نے اسے بتایا نہیں اور جب وہ بھوکا تھا تو تم نے اسے کھلایا نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے کپڑے واپس دلا دیئے اور میرے لئے نصف وسق یا پورے وسق کا حکم دیا۔