Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 9 · Chapter 474

اہل شام کی روایات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں سے بعض کی حدیث

1 hadith in this chapter

17218

Musnad Ahmad #17218

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ: " إِنَّ هَذَا لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ، قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ، حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ، فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَقَدْ وَاللَّهِ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ، وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، وَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ الرَّجُلُ إِلَى كِنَانَتِهِ، فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا، فَانْتَحَرَ بِهِ، فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ، قَدْ انْتَحَرَ فُلَانٌ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

غزوہ خیبر میں شریک ہونے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جو (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا) اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جہنمی ہے، جب جنگ شروع ہوئی تو اس نے انتہائی بےجگری سے جنگ لڑی اور اسے کثرت سے زخم آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں چند صحابہ آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! دیکھیے تو سہی، جس آدمی کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ یہ جہنمی ہے، بخدا اس نے تو راہ خدا میں بڑی بےجگری سے جنگ لڑی ہے اور اسے کثرت سے زخم آئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”وہ جہنمی ہے۔“ قریب تھا کہ لوگ شک میں مبتلا ہو جاتے اس شخص کو اپنے زخموں کی بہت تکلیف محسوس ہوئی، اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اسے اپنے سینے میں گھونپ لیا۔ یہ دیکھ کر ایک شخص دوڑتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات سچ کر دکھائی اس شخص نے اپنے سینے میں تیر گھونپ کر خود کشی کر لی ہے۔