Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 9 · Chapter 471

اہل شام کی روایات

حضرت ابوریحانہ رضِی اللہ عنہ کی حدیثیں۔

9 hadiths in this chapter

17206

Musnad Ahmad #17206

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مَرْثَدٍ الرَّحَبِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبَ بْنَ أَبْرَهَةَ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بِدَيْرِ الْمُرَّانِ وَذَكَرُوا الْكِبْرَ، فَقَالَ كُرَيْبٌ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ"، قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِسَبْقِ سَوْطِي، وَشِسْعِ نَعْلِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں تکبر کا معمولی سا حصہ بھی داخل نہیں ہو گا، کسی شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری اور جوتے کا تسمہ عمدہ ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تکبر نہیں، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے۔“

17207

Musnad Ahmad #17207

Sahih

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيد بْنِ مَرْثَدٍ الرَّحَبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبَ بْنَ أَبْرَهَةَ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ عَلَى سَرِيرِهِ بِدَيْرِ الْمُرَّانِ، وَذَكَرَ الْكِبْرَ، فَقَالَ كُرَيْبٌ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِحَبْلَانِ سَوْطِي، وَشِسْعِ نَعْلِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ" ، يَعْنِي بِالْحَبْلَانِ سَيْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں تکبر کا معمولی سا حصہ بھی داخل نہیں ہو گا، کسی شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری اور جوتے کا تسمہ عمدہ ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تکبر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے۔“

17208

Musnad Ahmad #17208

Sahih

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَالْمُشَاغَرَةِ، وَالْمُكَامَعَةِ، وَالْوِصَالِ، وَالْمُلَامَسَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو (خوبصورتی کے لیے) باریک کرنے، جسم گودنے، بال نوچنے، بھاؤ گھٹانے، باہم ایک برتن میں منہ لگانے، بالوں کے ساتھ بال ملانے اور بیع ملامسہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

17209

Musnad Ahmad #17209

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسَأَلَنِي: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرَةٍ عَنْ: " الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعْلَامِ، وَأَنْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَرُكُوبِ النُّمُورِ، وَلَبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالحصین ہیثم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرا ایک دوست جس کا نام ابوعامر تھا اور قبیلہ معافر سے اس کا تعلق تھا، بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے روانہ ہوئے، وہاں قبیلہ ازد کے ایک صاحب جن کا نام ابوریحانہ تھا اور وہ صحابہ میں سے تھے وعظ کہا کرتے تھے، میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد پہنچ گیا، تھوڑی دیر میں، مَیں بھی اس کے پاس پہنچ کر اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کبھی ابوریحانہ کی مجلس وعظ میں بیٹھے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے بتایا کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ ”دانتوں کو باریک کرنے سے، جسم گودنے سے، بال نوچنے سے، ایک مرد کے دوسرے مرد کے ساتھ بغیر رکاوٹ کے ایک ہی برتن سے منہ لگانے سے، ایک عورت کے دوسری عورت کے ساتھ ایک ہی برتن کے ساتھ منہ لگانے سے، کپڑے کے نچلے حصے میں نقش و نگار کی طرح ریشم لگانے سے، کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑے ڈالنے سے، لوٹ مار سے، چیتوں کی کھال کے پالانوں پر سواری کرنے سے اور بادشاہ کے علاوہ کسی اور کے انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔“

17210

Musnad Ahmad #17210

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عَامِرٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَرِهَ عَشْرَ خِصَالٍ:" الْوَشْرَ، وَالنَّتْفَ، وَالْوَشْمَ، وَمُكَامَعَةَ الرَّجُلِ الرَّجُلَ، وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ، وَالنُّهْبَةَ، وَرُكُوبَ النُّمُورِ، وَاتِّخَاذَ الدِّيبَاجِ هَاهُنَا وَهَاهُنَا أَسْفَلَ فِي الثِّيَابِ وَفِي الْمَنَاكِبِ، وَالْخَاتَمَ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ ”دانتوں کو باریک کرنے سے، جسم گودنے سے، بال نوچنے سے، ایک مرد کے دوسرے مرد کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ایک ہی برتن سے منہ لگانے سے، ایک عورت کے دوسری عورت کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ایک ہی برتن کے ساتھ منہ لگانے سے، کپڑے کے نچلے حصے میں نقش و نگار کی طرح ریشم لگانے سے، کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑے ڈالنے سے، لوٹ مار سے، چیتوں کی کھال کے پالانوں پر سواری کرنے سے اور بادشاہ کے علاوہ کسی اور کے انگوٹھی پہننے سے۔“

17211

Musnad Ahmad #17211

Zaeef

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ کے علاوہ کسی اور کو انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔

17212

Musnad Ahmad #17212

Zaeef

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا وَكَرَمًا، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے نو کافر آبا و اجداد کی طرف اپنی نسبت کر کے اپنی عزت و شرافت میں فخر کرتا ہے وہ جہنم میں ان کے ساتھ دسواں فرد بن کر داخل ہو گا۔“

17213

Musnad Ahmad #17213

Hasan

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَامِرٍ التُّجِيبِيَّ ، قَالَ أَبِي: وَقَالَ غَيْرُهُ يَعْنِي غَيْرَ زَيْدٍ: أَبُو عَلِيٍّ الْجَنَبِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَتَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَرَفٍ، فَبِتْنَا عَلَيْهِ، فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَأَيْتُ مَنْ يَحْفِرُ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً يَدْخُلُ فِيهَا، يُلْقِي عَلَيْهِ الْحَجَفَةَ يَعْنِي: التُّرْسَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ نَادَى:" مَنْ يَحْرُسُنَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَأَدْعُو لَهُ بِدُعَاءٍ يَكُونُ فِيهِ فَضْلٌ؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" ادْنُهْ"، فَدَنَا، فَقَالَ:" مَنْ أَنْتَ؟" فَتَسَمَّى لَهُ الْأَنْصَارِيُّ، فَفَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدُّعَاءِ، فَأَكْثَرَ مِنْهُ، قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ"، فَدَنَوْتُ، فَقَالَ:" مَنْ أَنْتَ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ، فَدَعَا بِدُعَاءٍ هُوَ دُونَ مَا دَعَا لِلْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ قَالَ: " حُرِّمَتْ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ أَوْ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَحُرِّمَتْ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" ، وَقَالَ: حُرِّمَتْ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ أُخْرَى ثَالِثَةٍ لَمْ يَسْمَعْهَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَيْرٍ، قَالَ عَبْدِ الله: قَالَ أَبِي: وَقَالَ غَيْرُهُ يَعْنِي غَيْرَ زَيْدٍ: أَبُو عَلِيٍّ الْجَنَبِيُّ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے رات کے وقت کسی ٹیلے پر پہنچے، رات وہاں گزاری تو شدید سردی نے آ لیا حتیٰ کہ میں نے دیکھا بعض لوگ زمین میں گڑھا کھود کر اس میں گھس جاتے ہیں، پھر ان کے اوپر ڈھالیں ڈال دی جاتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جب اس حال میں دیکھا تو اعلان فرما دیا کہ آج رات کو کون پہرہ داری کرے گا، میں اس کے لیے دعا کروں گا کہ اس میں اللہ کا فضل شامل ہو گا، اس پر ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا جب وہ قریب آیا تو پوچھا کہ تم کون ہو، اس نے اپنا نام بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا شروع کر دی اور خوب دعا کی سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں سنیں تو وہ آگے بڑھ کر عرض کر دیا کہ دوسرا آدمی میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ۔“ میں قریب ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ میں نے بتایا کہ ابوریحانہ ہوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں بھی دعائیں فرمائیں، جو اس انصاری کے حق میں کی جانے والی دعاؤں سے کچھ کم تھیں، پھر فرمایا: ”اس آنکھ پر جہنم کی آگ حرام ہے، جو اللہ کے خوف سے بہ پڑے اور اس آنکھ پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے جو اللہ کے راستے میں جاگتی رہے“، راوی کہتے ہیں کہ ایک تیسری آنکھ کا بھی ذکر کیا تھا لیکن محمد بن سمیر اسے سن نہیں سکے۔

17214

Musnad Ahmad #17214

Sahih

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّ?َنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحَجْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ وَصَاحِبًا لَهُ يَلْزَمَانِ أَبَا رَيْحَانَةَ يَتَعَلَّمَانِ مِنْهُ خَيْرًا، قَالَ: فَحَضَرَ صَاحِبِي يَوْمًا وَلَمْ أَحْضُرْ، فَأَخْبَرَنِي صَاحِبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ عَشْرَةً: الْوَشْرَ، وَالْوَشْمَ، وَالنَّتْفَ، وَمُكَامَعَةَ الرَّجُلِ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ، وَمُكَامَعَةَ الْمَرْأَةِ بِالْمَرْأَةِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ، وَخَطَّيْ حَرِيرٍ عَلَى أَسْفَلِ الثَّوْبِ، وَخَطَّيْ حَرِيرٍ عَلَى الْعَاتِقَيْنِ، وَالنَّمِرَ يَعْنِي جِلْدَةَ النَّمِرِ، وَالنُّهْبَةَ، وَالْخَاتَمَ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالحصین ہیثم کہتے ہیں کہ حضرت میں اور میرا ایک دوست ابوریحانہ کے ساتھ چمٹے رہتے اور ان سے علم حاصل کرتے تھے، ایک دن میرا ساتھی مسجد پہنچ گیا، میں نہیں پہنچ سکا، میرے ساتھی نے بعد میں مجھے بتایا کہ اس نے سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ دانتوں کو باریک کرنے سے، جسم گودنے سے، بال نوچنے سے، ایک مرد کے دوسرے مرد کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ایک ہی برتن سے منہ لگانے سے، ایک عورت کے دوسری عورت کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ایک ہی برتن کے ساتھ منہ لگانے سے، کپڑے کے نچلے حصے میں نقش و نگار کی طرح ریشم لگانے سے، کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑے ڈالنے سے، لوٹ مار سے، چیتوں کی کھال کے پالانوں پر سواری کرنے سے اور بادشاہ کے علاوہ کسی اور کے انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔