Musnad Ahmad #17206
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مَرْثَدٍ الرَّحَبِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَوْشَبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبَ بْنَ أَبْرَهَةَ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بِدَيْرِ الْمُرَّانِ وَذَكَرُوا الْكِبْرَ، فَقَالَ كُرَيْبٌ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ"، قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِسَبْقِ سَوْطِي، وَشِسْعِ نَعْلِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ" .
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں تکبر کا معمولی سا حصہ بھی داخل نہیں ہو گا، کسی شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری اور جوتے کا تسمہ عمدہ ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تکبر نہیں، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے۔“