Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 8 · Chapter 419

مدینہ والوں کی روایات

حضرت ضرار بن ازور (رض) کی حدیثیں

4 hadiths in this chapter

16702

Musnad Ahmad #16702

Zaeef

(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلِبُ، فَقَالَ:" دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت دودھ دوہ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کر سکو۔

16703

Musnad Ahmad #16703

Zaeef

(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ جَارُنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ ضِرَارٌ: ثُمَّ قُلْتُ: تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ سُفْقَتِي فَقَدْ بِعْتُ مَالِي وَأَهْلِي ابْتِدَالَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا غُبِنَتْ سُفْقَتُكَ يَا ضِرَار".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کہ ہاتھ بڑھائیے، میں اسلام پر آپ کی بیعت کر لوں، پھر میں نے چند اشعار پڑھے (جن کا ترجمہ یہ ہے) کہ میں پیالے، گلوکاراؤں کے گانے اور شراب کو چھوڑ آیا ہوں، گو کہ مجھے اس کی تکلیف برداشت کرنا پڑی ہے لیکن میں نے عاجزی سے یہ کام کئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں عمدہ جگہوں کو چھوڑ آیا ہوں اور مشرکین پر قتال کا بوجھ لاد آیا ہوں، لہذا اے پروردگار! میری اس تجارت کو خسارے سے محفوظ فرما کہ میں اس کے عوض اپنے اہل خانہ اور مال و دولت کو بیچ آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ضرار! تمہاری تجارت میں خسارہ نہیں ہو گا۔

16704

Musnad Ahmad #16704

Zaeef

(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا، فَحَلَبْتُهَا، فَقَالَ:" دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ضرار بن ازور سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے اہل خانہ نے ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دودھ دوہنے کا حکم دیا، میں اسے دوہن لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کر سکو۔

16705

Musnad Ahmad #16705

Zaeef

(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٌ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا، فَدَفَعْتُ عَنْهُ، فَقَالَ:" دَعُوهُ فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ"، فَقُلْتُ: نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبْعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ:" لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ أَوْ أَطْوَلْتَ، تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يأتُوه إِلَيْكَ، وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعَ النَّاسَ مِنْهُ، خَلِّ عَنْ زِمَامِ النَّاقَةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

مغیرہ بن سعد اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میدان عرفات میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، لوگ مجھے ہٹانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کوئی ضرورت ہے جو اسے لائی ہے، میں نے عرض کیا: کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: اگرچہ تمہارے الفاظ مختصر ہیں لیکن بات بہت بڑی ہے، اللہ کی عبادت اس طرح کر و کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کر و، زکوٰۃ ادا کر و، حج بیت اللہ کر و، ماہ رمضان کے روزے رکھو، لوگوں کے پاس اس طرح جاؤ جیسے ان کا تمہیں اپنے پاس آنا پسند ہواور جس چیز کو تم اپنے حق میں ناگوار سمجھتے ہو، اس سے لوگوں کو بھی بچاؤ اور اب اونٹنی کی رسی چھوڑ دو۔