Musnad Ahmad #16584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْقَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنْ جِعِرَّانَةَ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا، وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً، أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ، أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْهِ؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَأُوصِي بِشَطْرِهِ؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَأُوصِي بِثُلُثِهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَذَاكَ كَثِيرٌ"، قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَمُوتُ بِالدَّارِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا؟، قَالَ:" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللَّهُ، فَيَنْكَأَ بِكَ أَقْوَامًا، وَيَنْفَعَ بِكَ آخَرِينَ، يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِيِّ، إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي، فَهَا هُنَا فَادْفُنْهُ نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ" وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا.
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عمرو بن قاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین کی طرف روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے سیدنا سعد کو بیمار چھوڑ گئے اور جب جعرانہ سے عمرہ کر کے واپس تشریف لائے اور ان کے پاس گئے تو وہ تکلیف کی شدت سے نڈھال ہو رہے تھے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ!! میرے پاس مال و دولت ہے، میرے ورثاء میں صرف کلالہ ہے کیا میں اپنے سارے مال کے متعلق کوئی وصیت کر دوں یا اسے صدقہ کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں انہوں نے دو تہائی مال کی وصیت کے متعلق پوچھا:، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: نہیں، انہوں نے نصف مال کے متعلق پوچھا:، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرما دیا، انہوں نے ایک تہائی کے متعلق پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ!! میں اس سر زمین میں مروں گا جس سے میں ہجرت کر کے چلا گیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رفعتیں عطاء فرمائے گا اور تمہاری بدولت بہت سوں کو سرنگوں اور بہت سوں کو سربلند کر ے گا، اے عمرو بن قاری! اگر میرے پیچھے سعد کا انتقال ہو جائے تو انہیں یہاں دفن کرنا اور یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ منورہ کی طرف جانے والے راستے کی جانب اشارہ فرمایا:۔